LIVE
Loading Breaking News...

ڈین ڈرسکول کا استعفیٰ: ٹرمپ انتظامیہ میں نئی ہلچل

News Image
امریکی آرمی سیکریٹری ڈین ڈرسکول نے پٹ ہیگسیٹھ کے ساتھ طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ خبر واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
واشنگٹن کے سیاسی منظرنامے میں اس وقت ایک بڑی ہلچل دیکھنے میں آئی جب امریکی آرمی سیکریٹری ڈین ڈرسکول کے بارے میں اطلاعات سامنے آئیں کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہونے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان کا یہ فیصلہ پٹ ہیگسیٹھ کے ساتھ گزشتہ کئی ماہ سے جاری شدید کشیدگی اور پالیسی معاملات پر اختلافات کا نتیجہ ہے۔ ڈرسکول کا شمار واشنگٹن کے بااثر ترین افراد میں ہوتا تھا، لیکن حالیہ کچھ عرصے سے حکومتی حلقوں میں جاری اندرونی چپقلش نے ان کے لیے کام کرنا مشکل بنا دیا تھا۔ اگرچہ ابھی تک باضابطہ طور پر استعفے کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ تبدیلی ٹرمپ انتظامیہ کے اندر موجود گہرے اختلافات کی عکاس ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ڈین ڈرسکول اور پٹ ہیگسیٹھ کے درمیان اہم دفاعی فیصلوں اور انتظامی امور پر ہم آہنگی کا فقدان تھا، جس کی وجہ سے فوج کے اندر بھی بے چینی پائی جاتی تھی۔ یہ تناؤ اس وقت عروج پر پہنچ گیا جب دونوں شخصیات کے درمیان عوامی سطح پر بھی اختلافات کی خبریں گردش کرنے لگیں۔ اس استعفے کو ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم میں ہونے والی حالیہ تبدیلیوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے جہاں پالیسیوں پر گرفت مضبوط کرنے کے لیے مسلسل تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ واشنگٹن کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اعلیٰ سطحی عہدوں پر استعفے نہ صرف حکومتی کارکردگی پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ قومی سلامتی کے اہم فیصلوں میں بھی رکاوٹ کا باعث بن سکتے ہیں۔ فی الحال وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس معاملے پر کوئی خاص تبصرہ نہیں کیا گیا، تاہم قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ ڈرسکول کے جانشین کے طور پر کون سامنے آئے گا۔ یہ صورتحال امریکی فوج کی قیادت میں ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتی ہے جہاں نئی انتظامی ترجیحات کو نافذ کرنے کے لیے پرانے عہدیداران کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس استعفے کے اثرات امریکی دفاعی پالیسی پر مرتب ہوں گے جس پر پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔