LIVE
Loading Breaking News...

امریکی محکمہ انصاف کے نئے قانونی فیصلے سے ملازمتوں میں مقامی افراد کے ساتھ امتیازی سلوک کا خدشہ

News Image
امریکی محکمہ انصاف کے ایک متنازع قانونی فیصلے پر ماہرین کی جانب سے سخت تنقید کی جا رہی ہے جس سے کمپنیوں کو غیر ملکیوں کے لیے ملازمتوں کے اشتہارات محدود کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ وکیل جان میانو نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام امریکی شہریوں کے روزگار کے حقوق کے منافی ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ ایک خاموش قانونی فیصلے پر ملک بھر میں قانونی حلقوں اور عوامی سطح پر بحث چھڑ گئی ہے۔ قانون دان جان میانو، جو شکاگو میں قائم ایک کنسورشیم کے خلاف مقدمہ لڑ رہے ہیں، نے خبردار کیا ہے کہ اس نئے فیصلے کے تحت کمپنیوں کو اب یہ قانونی گنجائش حاصل ہو گئی ہے کہ وہ ملازمتوں کے اشتہارات میں امریکی شہریوں کے خلاف امتیازی سلوک برت سکیں۔ اس تنازعے کا مرکزی نقطہ ایچ ون بی (H-1B) ویزا ہولڈرز کی بھرتی ہے، جہاں کمپنیاں مقامی امریکی شہریوں کو نظر انداز کر کے غیر ملکی ماہرین کو ترجیح دینے کی پالیسی اپنا رہی ہیں۔ جان میانو کا کہنا ہے کہ محکمہ انصاف کی جانب سے اس قانونی فیصلے کا خاموشی سے اجرا انتہائی تشویشناک ہے، کیونکہ اس سے ان کمپنیوں کو تقویت ملے گی جو امریکی ورک فورس کو بائی پاس کر کے غیر ملکی ملازمین کو کم تنخواہوں پر ملازمت دینے کے خواہشمند ہیں۔ ان کے مطابق، یہ اقدام نہ صرف امریکی شہریوں کے روزگار کے مواقع کو محدود کرتا ہے بلکہ لیبر مارکیٹ میں ایک غیر منصفانہ مسابقت کو بھی فروغ دیتا ہے۔ اس کیس میں شکاگو کی ایک کمپنی پر الزام ہے کہ اس نے جان بوجھ کر اپنی بھرتی کے عمل میں امریکیوں کے بجائے غیر ملکیوں کو ترجیح دی، جسے اب مبینہ طور پر قانونی تحفظ حاصل ہو گیا ہے۔ اس صورتحال نے امریکی حکومت کی امیگریشن پالیسیوں اور کارپوریٹ بھرتی کے ضوابط پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر سرکاری ادارے کمپنیوں کو اس طرح کی پالیسیاں اپنانے کی اجازت دیتے رہے تو مقامی سطح پر بے روزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے اور امریکی ٹیلنٹ کو نظر انداز کرنے کا عمل تیز ہوگا۔ ناقدین کا مطالبہ ہے کہ اس قانونی حکم نامے کا ازسرنو جائزہ لیا جائے تاکہ ملازمت کے مساوی مواقع کے اصول کو یقینی بنایا جا سکے۔ فی الحال اس معاملے پر قانونی جنگ جاری ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ مسئلہ عدالتوں میں مزید طول پکڑے گا۔ انسانی حقوق کے کارکنان اور مقامی تجارتی تنظیمیں اب حکومت سے وضاحت مانگ رہی ہیں کہ آخر کن بنیادوں پر اس طرح کا فیصلہ لیا گیا جو براہ راست امریکی شہریوں کے مفادات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس قانونی فیصلے کے اثرات ملازمت کی منڈی پر واضح ہونا شروع ہو جائیں گے جس سے پالیسی سازوں پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔