Technology
الیکٹرک شاک گلوز کا استعمال: امریکی پولیس اور ICE کی نئی ٹیکنالوجی
امریکہ کے شہر بیلیویو اور اوماہا میں پولیس گزشتہ کئی برسوں سے الیکٹرک شاک گلوز کا استعمال کر رہی ہے۔ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کی جانب سے ان دستانوں کو اپنے ایجنٹوں کے لیے متعارف کرانے کے فیصلے کے بعد اس ٹیکنالوجی پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
امریکہ میں پولیس فورسز کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا دائرہ کار مسلسل بڑھ رہا ہے، جس میں ایک نیا اضافہ 'الیکٹرک شاک گلوز' یعنی بجلی کا جھٹکا دینے والے دستانے ہیں۔ حالیہ دنوں میں یہ خبریں سرخیوں میں ہیں کہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) اپنے ایجنٹوں کو ان دستانوں سے لیس کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی کوئی نئی نہیں ہے۔ نیبراسکا کے شہر بیلیویو اور اوماہا کی پولیس گزشتہ کئی برسوں سے ان دستانوں کو اپنی آپریشنل حکمت عملی کا حصہ بنائے ہوئے ہے۔ یہ دستانے پولیس افسران کو مشتبہ افراد کو قابو کرنے میں مدد دیتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر معمولی کرنٹ کے ذریعے انہیں بے بس کر سکتے ہیں۔
اوماہا اور بیلیویو پولیس محکموں کا کہنا ہے کہ ان دستانوں کا مقصد طاقت کا کم سے کم استعمال کرتے ہوئے قانون کی پاسداری کو یقینی بنانا ہے۔ روایتی ہتھیاروں کے مقابلے میں یہ آلات پولیس افسران کو ایک غیر مہلک متبادل فراہم کرتے ہیں، جس سے شدید زخمی ہونے یا جانی نقصان کے خطرات کم ہو جاتے ہیں۔ حکام کا ماننا ہے کہ ان دستانوں کے ذریعے کسی بھی ناخوشگوار صورتحال میں صورتحال کو تیزی سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے، بالخصوص جب مشتبہ شخص پرتشدد رویہ اپنا رہا ہو یا فرار ہونے کی کوشش کر رہا ہو۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس ٹیکنالوجی کے وسیع پیمانے پر استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان دستانوں کا غلط استعمال شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا باعث بن سکتا ہے۔ آئی سی ای (ICE) کی جانب سے ان دستانوں کے حصول کے اعلان کے بعد، اب ملک بھر میں اس بات پر بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس قسم کے آلات کے استعمال کی کھلی چھوٹ ہونی چاہیے، یا پھر ان کے استعمال کے لیے انتہائی سخت ضوابط اور نگرانی کی ضرورت ہے۔
فی الحال، ٹیکنالوجی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ان دستانوں کی افادیت کا انحصار اس بات پر ہے کہ انہیں کس طرح اور کس ماحول میں استعمال کیا جاتا ہے۔ جہاں ایک طرف پولیس افسران اسے اپنی حفاظت کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہیں، وہیں دوسری طرف عوامی حلقوں میں اس ٹیکنالوجی کے اخلاقی اور قانونی پہلوؤں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا وفاقی ادارے اپنی اس پالیسی کو برقرار رکھتے ہیں یا عوامی دباؤ کے بعد اس پر نظر ثانی کی جائے گی۔