Health
عوامی صحت کے مستقبل کو درپیش پانچ بڑے چیلنجز
ڈاکٹر سینڈرو گیلیہ نے عوامی صحت کے شعبے کو تبدیل کرنے والے پانچ بڑے عالمی رجحانات کی نشاندہی کی ہے۔ ان رجحانات میں بڑھتی ہوئی آبادی، موسمیاتی تبدیلی اور شہری آبادی میں اضافہ سرِفہرست ہیں۔
واشنگٹن یونیورسٹی کے ماہر اور ممتاز محقق ڈاکٹر سینڈرو گیلیہ نے ایک حالیہ تجزیے میں ان پانچ بنیادی رجحانات کا احاطہ کیا ہے جو آنے والے وقتوں میں دنیا بھر میں عوامی صحت کے منظر نامے کو مکمل طور پر تبدیل کرنے والے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انسانی آبادی میں تیزی سے بڑھتا ہوا عمر رسیدہ افراد کا تناسب ایک بہت بڑا چیلنج ہے، جس کے لیے صحت کے موجودہ نظام کو نئے خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ جیسے جیسے عالمی آبادی کی عمر بڑھ رہی ہے، دائمی امراض اور بزرگوں کی نگہداشت کے لیے درکار وسائل کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے، جو دنیا بھر کی حکومتوں کے لیے ایک آزمائش ہے۔
دوسری جانب، کرہ ارض کے درجہ حرارت میں ہونے والا مسلسل اضافہ یعنی کلائمیٹ چینج بھی عوامی صحت پر براہ راست منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ گرمی کی شدید لہریں، قدرتی آفات اور ماحولیاتی بگاڑ نہ صرف بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بن رہے ہیں بلکہ صحت کی سہولیات تک رسائی کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر گیلیہ کے مطابق تیسرا اہم رجحان دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری کاری ہے۔ زیادہ سے زیادہ لوگ دیہی علاقوں سے شہروں کا رخ کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے گنجان آباد شہری مراکز میں حفظان صحت کے اصولوں، رہائش اور آلودگی کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں جو عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
ان رجحانات کے علاوہ معاشرے میں پایا جانے والا عدم اعتماد اور معلومات تک رسائی کا متضاد نظام بھی صحت کے شعبے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی اور سوشل میڈیا کے دور میں غلط معلومات کا پھیلاؤ عوامی صحت کی مہمات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ ڈاکٹر سینڈرو گیلیہ کا ماننا ہے کہ اگر ان پانچوں عوامل، یعنی بڑھتی ہوئی عمر، ماحولیاتی تبدیلی، شہری آبادی کا دباؤ، سماجی عدم اعتماد اور ٹیکنالوجی کے اثرات کو بروقت نہ سمجھا گیا تو مستقبل میں انسانی صحت کے بحران میں شدت آ سکتی ہے۔ ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مربوط حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور صحت مند ماحول یقینی بنایا جا سکے۔