Technology
ڈور ڈیش کا ڈرون ڈیلیوری پروگرام شروع، ایف اے اے کی منظوری
فوڈ ڈیلیوری کی بڑی کمپنی ڈور ڈیش نے 'ڈور ڈیش ایئر' کے نام سے اپنے ان ہاؤس ڈرون ڈیلیوری پروگرام کا آغاز کر دیا ہے۔ اس نئے پروگرام کو فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) کی جانب سے تجارتی کارروائیوں کے لیے باضابطہ سرٹیفیکیشن بھی مل گئی ہے۔
فوڈ ڈیلیوری کی دنیا میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے معروف امریکی کمپنی ڈور ڈیش (DoorDash) نے اپنے ان ہاؤس ڈرون ڈیلیوری پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس نئے منصوبے کو 'ڈور ڈیش ایئر' (DoorDash Air) کا نام دیا گیا ہے، جس کا مقصد خوراک اور دیگر اشیاء کی ترسیل کے نظام کو مزید تیز اور جدید بنانا ہے۔ کمپنی کی جانب سے اٹھایا گیا یہ قدم مستقبل کی لاجسٹکس اور ڈیلیوری مارکیٹ میں ایک انقلابی تبدیلی کی غمازی کرتا ہے، جہاں روایتی گاڑیوں کے بجائے ہوا کے ذریعے ترسیل کو ترجیح دی جائے گی۔
حالیہ پیش رفت کے مطابق اس نئے ڈرون پروگرام کو امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) کی جانب سے تجارتی کارروائیوں کے لیے سرٹیفیکیشن بھی حاصل ہو چکی ہے۔ یہ منظوری اس بات کی علامت ہے کہ کمپنی کے ڈرون سسٹمز نے وفاقی فضائی اڑان کے حفاظتی اور تکنیکی معیارات کو کامیابی سے پورا کر لیا ہے۔ تاہم، ماہرین اور کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سرٹیفیکیشن کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ کسٹمز کے آرڈر اگلے ماہ یا فوری طور پر ڈرونز کے ذریعے گھروں تک پہنچنا شروع ہو جائیں گے، کیونکہ ابھی تجارتی پیمانے پر اس کے نفاذ میں کچھ وقت درکار ہے۔
ڈور ڈیش اپنے اس جدید ترین منصوبے کے تحت اپنی مرضی کے مطابق تیار کردہ (custom-built) ڈرونز استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جنہیں خاص طور پر آرڈرز کی نوعیت اور وزن کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ کمپنی کا ہدف ہے کہ وہ فضائی ترسیل کے ذریعے اپنے صارفین کو کم سے کم وقت میں اشیاء کی فراہمی یقینی بنائے۔ اس ٹیکنالوجی کے اپنانے سے نہ صرف شہروں میں ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا بلکہ ڈیلیوری کے اخراجات میں بھی نمایاں کمی واقع ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
اگرچہ ڈرون ڈیلیوری کا یہ سفر ابھی اپنی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس کی مکمل تجارتی فراہمی کو عام ہونے میں کچھ مہینے یا سال لگ سکتے ہیں، لیکن ٹیک انڈسٹری میں اس اقدام کو انتہائی تحسین کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ گوگل کی ونگ اور ایمیزون کے بعد اب ڈور ڈیش کا اس میدان میں آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ آنے والا دور ڈرون ڈیلیوری کا ہی ہے، جو ہمارے روزمرہ کے طرز زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دے گا۔