LIVE
Loading Breaking News...

نیوزی لینڈ ہیلتھ کیئر: ادویات کی فراہمی اور بجٹ کا بحران

News Image
نیوزی لینڈ کا ہیلتھ بجٹ کا صرف 4.9 فیصد ادویات پر خرچ ہوتا ہے جو کہ آسٹریلیا اور او ای سی ڈی کے اوسط سے کافی کم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مفت جی پی وزٹس کے بجائے جدید ادویات تک رسائی صحت کی بہتری کے لیے زیادہ کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
نیوزی لینڈ کے ہیلتھ کیئر سسٹم میں اس وقت ایک اہم بحث جاری ہے جس میں سیسیلیا رابنسن جیسے ماہرین کا یہ موقف سامنے آیا ہے کہ مفت جنرل پریکٹیشنر (جی پی) وزٹس سے زیادہ اہم عوام کو جدید اور ضروری ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، نیوزی لینڈ اپنے صحت کے بجٹ کا صرف 4.9 فیصد حصہ ادویات پر خرچ کرتا ہے، جو کہ آسٹریلیا کے 12.2 فیصد اور او ای سی ڈی (OECD) کے 13.3 فیصد کے اوسط سے انتہائی کم ہے۔ اس تفاوت نے ملک میں طبی سہولیات کے معیار اور مریضوں کی پہنچ پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، آسٹریلیا 142 ایسی جدید ادویات کی فنڈنگ کر رہا ہے جو نیوزی لینڈ میں دستیاب نہیں ہیں۔ طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف ڈاکٹر کے پاس جانے کی مفت سہولت فراہم کر دینا کافی نہیں ہے اگر مریضوں کو وہ ادویات ہی میسر نہ ہوں جو ان کی بیماری کے علاج کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی اور تحقیق سے تیار کی گئی ہیں۔ جب کسی ملک کا ہیلتھ سسٹم ادویات پر سرمایہ کاری کرنے کے بجائے دیگر انتظامات پر زیادہ توجہ دیتا ہے، تو اس کا براہِ راست اثر مریضوں کی زندگی بچانے کی شرح پر پڑتا ہے۔ سیسیلیا رابنسن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نیوزی لینڈ کو اپنی ہیلتھ پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت صحت کے بجٹ میں ادویات کے حصے کو بڑھاتی ہے، تو نہ صرف طویل مدتی ہسپتال کے اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ عوام کی صحت کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی جا سکے گی۔ عالمی معیار کے مطابق ادویات کی فراہمی صحت کے نظام کا ایک ستون ہے، اور اس ستون کو کمزور رکھنا دراصل علاج کے عمل کو ادھورا چھوڑ دینے کے مترادف ہے۔ حکومت کو اب اس چیلنج کا سامنا ہے کہ وہ کس طرح محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے صحت کی بنیادی ضروریات اور جدید ادویات کے درمیان توازن قائم کرے۔ ماہرین کا مطالبہ ہے کہ ادویات کی فہرست میں ان جدید ادویات کو شامل کیا جائے جو آسٹریلیا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں مریضوں کی جان بچانے کے لیے پہلے ہی استعمال ہو رہی ہیں۔ اگر نیوزی لینڈ اس سمت میں پیش قدمی نہیں کرتا، تو صحت عامہ کا بحران مزید گہرا ہونے کا خدشہ برقرار رہے گا، کیونکہ ادویات کی عدم دستیابی علاج کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔