World
بنگلہ دیش کی پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے میں شمولیت کی خواہش
بنگلہ دیش نے خطے میں اسٹریٹجک تعاون بڑھانے کے لیے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدے میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اس مجوزہ ત્રિકோણીய یا چوکھی شراکت داری سے خطے کے سیکیورٹی منظرنامے میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔
ڈھاکہ کی جانب سے حال ہی میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین طے پانے والے دفاعی معاہدے میں شمولیت میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ سفارتی حلقوں میں اس پیش رفت کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ خطے میں دفاعی اور اسٹریٹجک شراکت داری کا ایک نیا محور بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس مجوزہ اتحاد کو مکہ اکارڈ یا اسلام آباد-ریاض-انقرہ محور کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، جو خطے کے ممالک کے درمیان تعاون کو ایک نئی سطح پر لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مبصرین کے مطابق، اگر بنگلہ دیش اس دفاعی فریم ورک کا حصہ بن جاتا ہے تو اس سے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ مشرق وسطیٰ کے سیکیورٹی توازن پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ مجوزہ معاہدے کے تحت عسکری تجربات کا تبادلہ، مشترکہ مشقیں اور دفاعی پیداوار میں تعاون جیسے اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین اس پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اور اسے مسلم دنیا کے بڑے ممالک کے درمیان سیکیورٹی اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے حوالے سے ایک سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی اس خطے میں مختلف دفاعی معاہدوں کی بازگشت سنائی دیتی رہی ہے، تاہم موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال میں اس نئے اتحاد کی افادیت دوچند ہو گئی ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید باضابطہ رابطے اور مذاکرات ہوں گے جو بنگلہ دیش کی اس اتحاد میں شمولیت کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔