Business
خام تیل کی قیمتوں میں تیزی، برینٹ آئل 94 ڈالر سے تجاوز
عالمی منڈی میں جاری کشیدگی اور سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی خام تیل اور برینٹ آئل کے نرخوں میں نمایاں تیزی نے سرمایہ کاروں کو متوجہ کر لیا ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان برقرار ہے، جس کے باعث ہفتہ وار بنیادوں پر بھی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر کے لیے ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کے سودے 0.23 ڈالر یا 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 87.06 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے۔ اسی طرح برینٹ آئل کی قیمتوں میں بھی 0.81 ڈالر یعنی 0.9 فیصد کا اضافہ ہوا، جس کے بعد برینٹ آئل کی قیمت 94.59 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ یہ مسلسل دوسرا ہفتہ ہے کہ تیل کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔
اس تیزی کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی بالخصوص امریکہ اور ایران کے مابین بڑھتی ہوئی سیاسی و عسکری تناؤ ہے، جس نے عالمی سپلائی چین کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ہرمز آبنائے کے ارد گرد بڑھتے ہوئے خطرات اور تیل کی کم ذخیرہ اندوزی نے مارکیٹ میں تیزی کی لہر کو تقویت دی ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو تیل کی رسد میں شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت پر براہِ راست پڑیں گے۔
تجارتی حلقوں کے مطابق، مارکیٹ میں برینٹ آئل کی قیمت 94 ڈالر کی سطح کے قریب استحکام اختیار کر چکی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تاجر مستقبل کے لیے مزید اضافے کی توقع کر رہے ہیں۔ نیو یارک مرکنٹائل ایکسچینج (Nymex) پر جاری ہونے والی رپورٹس کے مطابق، پیٹرولیم مصنوعات کی مانگ میں اضافے اور سپلائی کے غیر یقینی مستقبل نے خریداروں کو متحرک رکھا ہوا ہے۔ اگرچہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے، لیکن جغرافیائی سیاسی صورتحال تیل کی قیمتوں کو مسلسل بلند سطح پر رکھنے کا باعث بن رہی ہے۔
ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں کا دارومدار خطے میں ہونے والی پیش رفت پر ہوگا۔ اگر تناؤ میں کمی نہیں آتی تو تیل کی قیمتیں مزید نئی بلندیوں کو چھو سکتی ہیں۔ عالمی منڈی میں جاری یہ کشیدہ صورتحال نہ صرف توانائی کے شعبے کے لیے بلکہ عالمی افراطِ زر کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، جس پر دنیا بھر کے معاشی ماہرین گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔