LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ موبائل کا ٹی ون فون اور میڈ ان امریکہ کے متنازع دعوے

News Image
بی بی سی ویریفائی نے ٹرمپ موبائل کے ٹی ون فون کے ڈیزائن، فیچرز، تیاری اور ریلیز کی تاریخ میں ہونے والی مسلسل تبدیلیوں کا سراغ لگایا ہے۔ اس حوالے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسمارٹ فون کی مارکیٹنگ میں کیے گئے دعوے حقائق کے برعکس تبدیل ہوتے رہے۔
ٹرمپ موبائل کی جانب سے متعارف کروائے جانے والے 'میڈ ان امریکہ' اسمارٹ فون کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں جو اس کی تیاری اور مارکیٹنگ کے عمل میں ابہام کو ظاہر کرتی ہیں۔ بی بی سی ویریفائی کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق اسمارٹ فون انڈسٹری میں اس ڈیوائس کے حوالے سے کیے جانے والے دعوے اور زمینی حقائق میں کافی فرق پایا گیا ہے، اور اس کے ڈیزائن، ٹیکنیکل خصوصیات اور تیاری کےمراحل میں مسلسل تبدیلیاں کی جاتی رہی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹی ون (T1) فون کے اجرا کے حوالے سے تاریخوں میں بار بار ردوبدل کیا گیا، جس سے صارفین اور ٹیک حلقوں میں اس منصوبے کی شفافیت پر سوالات اٹھائے گئے۔ ابتدا میں اس فون کو ایک ایسے پروڈکٹ کے طور پر پیش کیا گیا تھا جو مکمل طور پر امریکہ میں تیار کیا جائے گا، تاہم جب اس کے تکنیکی پہلوؤں اور مینوفیکچرنگ کی تفصیلات کا جائزہ لیا گیا تو انکشاف ہوا کہ اس کے شیڈول اور اہداف میں مسلسل ترامیم کی جاتی رہی ہیں۔ اسمارٹ فون مارکیٹ میں کسی بھی نئے برانڈ کے لیے 'میڈ ان امریکہ' کا لیول لگانا اور اسے عملی جامہ پہنانا ایک انتہائی پیچیدہ عمل ہوتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ گلوبل سپلائی چین کے دور میں مکمل طور پر مقامی سطح پر فون تیار کرنا ایک چیلنج ہے، اور ٹرمپ موبائل کے معاملے میں بھی یہی تکنیکی اور انتظامی رکاوٹیں سامنے آئیں جن کی وجہ سے منصوبے کی تفصیلات تبدیل کرنا پڑیں۔ ٹیکنالوجی کے شعبے میں اس پیشرفت پر جہاں ایک طرف حامیوں کی جانب سے دلچسپی کا اظہار کیا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف آزاد مبصرین اس کی کامیابی اور اس کی مارکیٹنگ کی حکمت عملی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ٹرمپ موبائل اپنے ان وعدوں کو عملی شکل دے پاتا ہے یا نہیں جو اس کی تشہیری مہم کے دوران کیے گئے تھے۔