Entertainment
مارک رفالو کا پیرا ماؤنٹ پر اسرائیلی فوج سے روابط کا الزام
ہالی ووڈ اداکار مارک رفالو نے پیرا ماؤنٹ کے کاروباری معاہدوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس پر اسرائیلی فوج سے روابط کا الزام عائد کیا ہے۔ سٹوڈیو انتظامیہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنی کاروباری ساکھ کا دفاع کیا ہے۔
مشہور ہالی ووڈ اداکار مارک رفالو نے پیرا ماؤنٹ کی جانب سے وارنر برادرز کے ساتھ کیے جانے والے 111 بلین ڈالر کے معاہدے کے خلاف سخت موقف اختیار کر لیا ہے۔ رفالو، جو طویل عرصے سے اس انضمام کے مخالف رہے ہیں، نے سینیٹ کی سماعتوں میں بھی اس سودے کے خلاف گواہی دی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ اس طرح کے بڑے کاروباری انضمام سے مارکیٹ میں اجارہ داری بڑھے گی اور تخلیقی آزادی سلب ہو جائے گی۔ اداکار نے سینکڑوں فنکاروں کے ساتھ مل کر ایک کھلے خط پر دستخط بھی کیے ہیں جس میں ان خدشات کو اجاگر کیا گیا ہے۔
اس معاملے کا سب سے اہم اور متنازعہ پہلو پیرا ماؤنٹ کے 'اوریکل' اور اسرائیلی فوج کے ساتھ مبینہ تعلقات ہیں۔ مارک رفالو نے عوامی سطح پر یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا پیرا ماؤنٹ کا یہ معاہدہ انسانی حقوق کے اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔ اداکار کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنی اوریکل کے اسرائیلی فوج کے ساتھ کاروباری شراکت داری کے تناظر میں پیرا ماؤنٹ کا ان سے جڑنا اخلاقی اعتبار سے سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سٹوڈیو کو اپنے ان کاروباری شراکت داروں کے بارے میں شفافیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
پیرا ماؤنٹ انتظامیہ نے ان الزامات کے جواب میں ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ سٹوڈیو کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مارک رفالو کی جانب سے لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ پیرا ماؤنٹ تمام قانونی ضابطوں کی پابندی کرتا ہے اور ان کے کاروباری شراکت داروں کا انتخاب شفاف کاروباری اصولوں پر مبنی ہوتا ہے۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ وارنر برادرز کے ساتھ ان کا مجوزہ معاہدہ فلم انڈسٹری کی ترقی کے لیے نہایت اہم ہے اور اسے محض سیاسی تنازعات کا حصہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مارک رفالو جیسے قد آور فنکار کی جانب سے اس طرح کے حساس معاملات اٹھانا ہالی ووڈ کی کارپوریٹ دنیا میں ایک نئی بحث کا آغاز ہے۔ یہ معاملہ محض ایک انضمام کا نہیں بلکہ سٹوڈیوز کے اپنے اخلاقی موقف اور ان کی بین الاقوامی کاروباری وابستگیوں کا ہے۔ آنے والے دنوں میں سینیٹ کی مزید سماعتیں اور رفالو کے حامی فنکاروں کا دباؤ اس معاہدے کے مستقبل کے حوالے سے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ فی الحال فلمی حلقوں میں اس بات پر شدید تشویش پائی جاتی ہے کہ آیا کارپوریٹ مفادات انسانی حقوق کی آواز کو دبا سکیں گے یا نہیں۔