LIVE
Loading Breaking News...

ٹک ٹاک پر بچوں کی پرائیویسی کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ عائد

News Image
مشہور سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک نے بچوں کے ڈیٹا کے غیر قانونی حصول سے متعلق امریکی محکمہ انصاف کے مقدمے کو ختم کرنے کے لیے 400 ملین ڈالر جرمانے کی ادائیگی پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ یہ فیصلہ بائیڈن انتظامیہ کے دور میں شروع ہونے والی قانونی کارروائی کے نتیجے میں کیا گیا ہے۔
مشہور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک اور اس کی چینی پیرنٹ کمپنی بائٹ ڈانس نے حال ہی میں ایک اہم پیش رفت کے دوران امریکی محکمہ انصاف کے ساتھ ایک تصفیہ کیا ہے، جس کے تحت کمپنی بچوں کی پرائیویسی سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کے کیس کو ختم کرنے کے لیے 400 ملین ڈالر ادا کرے گی۔ یہ مقدمہ بائیڈن انتظامیہ کے دور میں دائر کیا گیا تھا، جس میں ٹک ٹاک پر سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے کہ کمپنی نے بچوں کے ڈیٹا کو غیر قانونی طریقے سے جمع کیا اور ان کی آن لائن رازداری کو خطرے میں ڈالا۔ محکمہ انصاف کی جانب سے دائر کی گئی اس قانونی چارہ جوئی کا بنیادی مقصد بچوں کی آن لائن حفاظت کے قوانین کا نفاذ یقینی بنانا تھا۔ حکام کا ماننا تھا کہ ٹک ٹاک نے اپنے پلیٹ فارم پر موجود نابالغ صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری حفاظتی اقدامات نہیں کیے، جو کہ امریکی قوانین کی صریح خلاف ورزی تھی۔ اس بھاری جرمانے کی ادائیگی کو ٹیکنالوجی کی دنیا میں بچوں کی ڈیجیٹل حفاظت کے حوالے سے ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے دیگر سوشل میڈیا کمپنیوں پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے سخت اصول اپنائیں۔ واضح رہے کہ ٹک ٹاک کو ماضی میں بھی دنیا کے کئی ممالک میں پرائیویسی اور ڈیٹا سیکیورٹی کے مسائل کی وجہ سے تنقید کا سامنا رہا ہے۔ اس نئے تصفیے کے بعد کمپنی کو یہ پابند بنایا گیا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم پر بچوں کی رازداری کے تحفظ کے لیے مزید موثر اور شفاف طریقہ کار متعارف کروائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم جہاں ایک طرف قانونی کارروائی کا خاتمہ کرے گا، وہیں دوسری طرف ٹک ٹاک کے لیے عالمی سطح پر اپنے ساکھ کو بحال کرنے کے لیے بھی ایک چیلنج ثابت ہوگا۔ کمپنی نے اس معاملے پر اپنے باضابطہ بیان میں کہا ہے کہ وہ ڈیٹا پروٹیکشن کے حوالے سے مستقبل میں انتہائی محتاط رہے گی تاکہ صارفین بالخصوص بچوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔