LIVE
Loading Breaking News...

میش نیٹ ورک ٹیکنالوجی: قدرتی آفات میں مواصلات کا جدید حل

News Image
ملائیشیا کے شہر کوٹا بھرُو میں سیلاب جیسی قدرتی آفات کے دوران مواصلاتی نظام کی بحالی کے لیے نئی 'میش' نیٹ ورک ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی ہے۔ یہ نظام مرکزی نیٹ ورک کی بندش کے باوجود امدادی کارکنوں کو ایک دوسرے سے رابطے میں رہنے میں مدد فراہم کرے گا۔
ملائیشیا کے علاقے کوٹا بھرُو، کیلانتن میں سیلاب کے بار بار آنے والے خطرات کے پیش نظر، ایک جدید مواصلاتی نظام متعارف کرایا گیا ہے تاکہ ہنگامی حالات میں امدادی ٹیموں کا رابطہ منقطع نہ ہو۔ رواں سال فروری سے شروع کیے گئے اس منصوبے کا بنیادی مقصد ایسے 'میش' (Mesh) نیٹ ورک کا قیام ہے جو مرکزی ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے تباہ ہونے یا سگنل بند ہونے کی صورت میں بھی فعال رہ سکے۔ سیلاب کے دوران جب موبائل ٹاورز اور دیگر مواصلاتی ذرائع کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں، تو یہ ٹیکنالوجی امدادی کارکنوں کے لیے لائف لائن ثابت ہوگی۔ اس منصوبے میں 'میش ٹیسٹک' (Meshtastic) اور 'میش کور' (MeshCore) جیسی جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ سسٹم بغیر کسی مرکزی کنٹرول نیٹ ورک کے، مقامی سطح پر ڈیوائسز کے باہمی اشتراک سے کام کرتا ہے۔ جب ایک ڈیوائس دوسرے کے ساتھ ڈیٹا شیئر کرتی ہے، تو وہ خود بخود ایک مضبوط نیٹ ورک کا حصہ بن جاتی ہے۔ اس طرح، کوٹا بھرُو کے سیلاب زدہ علاقوں میں موجود ریسکیو ورکرز کسی بھی بڑی رکاوٹ کے بغیر اہم پیغامات اور مقامات کی معلومات ایک دوسرے کو بھیج سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی نیٹ ورک کے مقابلے میں اس سسٹم کا سب سے بڑا فائدہ اس کی خود انحصاری ہے۔ اسے چلانے کے لیے کسی مہنگے انفراسٹرکچر یا انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر کی ضرورت نہیں پڑتی، بلکہ یہ چھوٹے پورٹیبل آلات کے ذریعے کام کرتا ہے۔ فروری سے جاری اس تیاری کا مقصد یہ تھا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں امدادی کارروائیوں کو سست روی سے بچایا جا سکے، کیونکہ ماضی میں مواصلات کی خرابی کے باعث کئی علاقوں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو مزید وسیع پیمانے پر پھیلانے کا ارادہ ہے تاکہ اسے دیگر آفات زدہ علاقوں میں بھی متعارف کرایا جا سکے۔ کوٹا بھرُو کا یہ ماڈل دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے جہاں قدرتی آفات کے دوران مواصلاتی نظام کی تباہی سب سے بڑا چیلنج بن کر سامنے آتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے نہ صرف انسانی جانوں کو بچانے میں مدد ملے گی بلکہ ریسکیو آپریشنز کے دوران شفافیت اور رفتار میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔