LIVE
Loading Breaking News...

امینو ایسڈز کی تیاری کا نیا ماحول دوست طریقہ

News Image
سائنسدانوں نے بائیو ماس سے حاصل کردہ ہائیڈروکسی ایسڈز کو امینو ایسڈز میں تبدیل کرنے کے لیے روٹھیونیم پر مبنی ایک نیا اور ماحول دوست طریقہ کار دریافت کر لیا ہے۔ یہ تحقیق مستقبل میں کیمیائی صنعتوں کو زیادہ پائیدار اور سبز متبادل فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
سائنسی تحقیق کے ایک اہم موڑ پر محققین نے بائیو ماس سے حاصل ہونے والے الفا اور بیٹا ہائیڈروکسی ایسڈز کو قیمتی امینو ایسڈز میں تبدیل کرنے کے لیے ایک نیا اور انتہائی موثر طریقہ کار وضع کیا ہے۔ اس عمل میں روٹھیونیم (Ruthenium) کے الگ تھلگ مقامات (isolated sites) بطور عمل انگیز (catalyst) استعمال کیے گئے ہیں، جو ڈی ہائیڈریشن اور ریڈکٹو امینیشن کے عمل کو ممکن بناتے ہیں۔ یہ دریافت کیمیائی صنعت کے لیے ایک بڑی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے کیونکہ امینو ایسڈز کی تیاری کے روایتی طریقے اکثر پیچیدہ ہوتے ہیں اور ان میں ماحولیاتی آلودگی کا خدشہ رہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، بائیو ماس ایک قابل تجدید وسیلہ ہے، اور اس سے حاصل کردہ ہائیڈروکسی ایسڈز کو امینو ایسڈز میں تبدیل کرنا کیمیکل انڈسٹری کو 'گرین روٹس' (سبز راستوں) کی طرف گامزن کرنے میں مدد دے گا۔ ماضی میں ان ایسڈز کی منتخب تبدیلی (selective conversion) ایک مشکل مرحلہ تھا، جس کے لیے سخت حالات اور پیچیدہ کیمیائی عوامل درکار ہوتے تھے۔ تاہم، روٹھیونیم کی بنیاد پر تیار کردہ یہ نئی تکنیک نہ صرف عمل کو آسان بناتی ہے بلکہ پیداواری صلاحیت میں بھی نمایاں اضافہ کرتی ہے۔ یہ طریقہ کار انڈسٹری میں توانائی کی کھپت کو کم کرنے اور فضلہ پیدا کرنے والے عمل کو محدود کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج عالمی سطح پر کیمیائی سائنسدانوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہیں کیونکہ یہ پائیدار مستقبل کی جانب ایک قدم ہے۔ روٹھیونیم کا استعمال کرتے ہوئے یہ نیا طریقہ کار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح دھاتی عمل انگیزوں (metal catalysts) کو کنٹرول شدہ ماحول میں استعمال کر کے پیچیدہ مالیکیولز کی تیاری کو آسان بنایا جا سکتا ہے۔ مستقبل قریب میں اس تکنیک کو بڑے پیمانے پر صنعتی سطح پر استعمال کرنے کے امکانات پر کام کیا جائے گا تاکہ ادویات سازی اور خوراک کی صنعت میں امینو ایسڈز کی طلب کو ماحول دوست طریقے سے پورا کیا جا سکے۔