World
سوڈان میں خانہ جنگی: کردفان سے نقل مکانی جاری
سوڈان کے علاقے کردفان میں جاری شدید لڑائی کے پیش نظر ہزاروں شہری نقل مکانی کر کے ایل عبید کے نسبتاً محفوظ علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے علاقے میں بڑھتے ہوئے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سوڈان کے علاقے کردفان میں جاری شدید جھڑپوں اور مسلح کشیدگی کے باعث انسانی صورتحال انتہائی سنگین ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں شہری اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ مقامی ذرائع اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق، کردفان کے مختلف حصوں میں جاری لڑائی نے عام شہریوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا ہے، جس کے بعد بڑی تعداد میں خاندان جان بچانے کی خاطر ایل عبید شہر کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں۔ ایل عبید، جو کہ کردفان کا ایک اہم مرکز ہے، اب ان متاثرہ افراد کے لیے نسبتاً محفوظ پناہ گاہ کے طور پر ابھرا ہے، تاہم وہاں بھی بنیادی سہولیات کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ نقل مکانی کرنے والے ان ہزاروں شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کے علاقوں میں گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ کئی ہفتوں سے جاری ہے، جس کے بعد ان کے پاس وہاں قیام کرنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا۔ زیادہ تر لوگ پیدل یا ٹرکوں کے ذریعے طویل اور پرخطر سفر طے کر کے ایل عبید پہنچ رہے ہیں، جہاں پہلے سے موجود مہاجرین کی بڑھتی ہوئی تعداد نے انتظامیہ پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر لڑائی کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو علاقے میں خوراک اور ادویات کا بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔ ایل عبید میں پناہ لینے والے شہریوں کو پینے کے صاف پانی، خیموں اور خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ مقامی انتظامیہ کی جانب سے بھی ان مہاجرین کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے محدود وسائل کے ساتھ کوششیں کی جا رہی ہیں، لیکن حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے یہ اقدامات ناکافی دکھائی دیتے ہیں۔ عالمی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سوڈان میں جاری اس خونی تصادم کو ختم کرنے اور متاثرین کے لیے ہنگامی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ سوڈان میں جاری یہ بحران نہ صرف خطے کے لیے بلکہ پورے افریقی خطے کے استحکام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ کردفان سے آنے والے مہاجرین کی کہانیاں انتہائی افسوسناک ہیں، جن میں بہت سے لوگ اپنے پیاروں کو کھو چکے ہیں یا زخمی حالت میں طویل مسافت طے کر کے یہاں پہنچے ہیں۔ عالمی طاقتوں کی جانب سے خاموشی اور امداد کی سست روی اس انسانی المیے کو مزید گہرا کر رہی ہے۔