World
صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے تنازعہ ختم کرنے پر زور
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے زور دیا ہے کہ ایران اس وقت مضبوط پوزیشن میں ہے اور خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے ملکی وقار کو مقدم رکھتے ہوئے امریکہ کے ساتھ تناؤ میں کمی اور سفارتی بات چیت کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ایک حالیہ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ان کا ملک خطے میں جاری کشیدگی اور تنازعات کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے۔ صدر پزشکیان کے مطابق ایران اس وقت ایک ایسی مضبوط پوزیشن میں ہے جہاں سے وہ قومی وقار اور خود مختاری کو برقرار رکھتے ہوئے دشمنی کے خاتمے کی بات کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران جنگ کا حامی نہیں ہے بلکہ وہ ایسے حل کی تلاش میں ہے جس سے خطے میں دیرپا استحکام پیدا ہو سکے۔ صدر کے یہ تبصرے ملکی سیاست اور بین الاقوامی سطح پر جاری شدید دباؤ کے دوران سامنے آئے ہیں۔
اس بیان کے ساتھ ہی ایرانی صدر نے اپنے دورِ حکومت میں کیے جانے والے بعض معاہدوں اور فیصلوں کا دفاع کیا ہے جن پر انہیں اندرونی سطح پر سخت تنقید کا سامنا تھا۔ صدر پزشکیان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلے ملکی مفادات کو سامنے رکھ کر کیے گئے تھے اور ان کا مقصد ایران کو عالمی تنہائی سے نکال کر اسے ایک باوقار مقام دلانا تھا۔ اگرچہ ایرانی فوجی قیادت نے اسرائیل اور دیگر جارح عناصر کی طرف سے کسی بھی ممکنہ جارحیت کے جواب میں سخت انتقامی کارروائی کی دھمکی دی ہے، تاہم سیاسی قیادت کی طرف سے سفارتی دروازے کھلے رکھنے کا عندیہ ایک اہم پیشرفت سمجھا جا رہا ہے۔
ادھر عمان کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں میں بھی ایران نے بات چیت کی بحالی پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ایران اور عمان کے حکام نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے کھلے مواصلاتی ذرائع انتہائی ضروری ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پزشکیان کی حکمت عملی 'طاقت کے ساتھ سفارتکاری' پر مبنی ہے، جس میں وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ایران کمزور نہیں بلکہ اپنی شرائط پر مذاکرات کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔
مستقبل کے حوالے سے یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا امریکہ اور ایران کے درمیان برف پگھل پاتی ہے یا نہیں۔ تہران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ امریکہ سے تصادم کے بجائے اپنے حقوق کے تحفظ کو ترجیح دیتا ہے۔ اگر واشنگٹن کی طرف سے بھی اسی طرح کے مثبت اشارے ملتے ہیں تو خطے میں کشیدگی کا گراف نیچے آ سکتا ہے، جو کہ نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے لیے ایک خوش آئند قدم ثابت ہوگا۔ ایرانی قیادت کا یہ نیا بیانیہ اس بات کا عکاس ہے کہ ایران اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لانے اور عالمی برادری کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔