LIVE
Loading Breaking News...

جنتر منتر پر ریزرویشن مخالف مظاہرہ، دہلی پولیس کی کارروائی

News Image
نئی دہلی کے جنتر منتر پر ریزرویشن کے خلاف ہونے والے مظاہرے کے دوران دہلی پولیس نے 50 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ کوٹہ سسٹم ذات کی بنیاد پر نہیں بلکہ معاشی بنیادوں پر ہونا چاہیے۔
نئی دہلی کے مشہور احتجاجی مقام جنتر منتر پر اس وقت صورتحال کشیدہ ہو گئی جب 'ریزرویشن ہٹاؤ تحریک' کے کارکنان نے موجودہ کوٹہ سسٹم کے خلاف ایک بڑے مظاہرے کا انعقاد کیا۔ احتجاج کے دوران شرکاء نے ملک میں جاری ریزرویشن کی پالیسی پر شدید تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں داخلوں کے لیے ذات پات کی بجائے معاشی حیثیت کو معیار بنایا جائے۔ اس مظاہرے میں بڑی تعداد میں نوجوان اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد شریک تھے۔ احتجاج کے پیش نظر دہلی پولیس نے علاقے میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کر رکھے تھے۔ مظاہرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے پولیس نے علاقے کی ناکہ بندی کر دی اور مظاہرے کو روکنے کی کوشش کی۔ صورتحال اس وقت مزید خراب ہوئی جب پولیس نے مظاہرین کو وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔ پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ نظم و ضبط کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے 50 سے زائد مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے جنہیں قریبی تھانوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ مظاہرین کا موقف ہے کہ موجودہ ریزرویشن نظام سماج میں مزید تفریق پیدا کر رہا ہے اور اس سے نالائق افراد کو فائدہ پہنچ رہا ہے جبکہ مستحق غریب طبقہ پیچھے رہ جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں ریزرویشن کا خاتمہ ہونا چاہیے اور اگر کسی کو مدد کی ضرورت ہے تو اس کا تعین صرف غربت کی بنیاد پر ہونا چاہیے نہ کہ ذات کی بنیاد پر۔ اس احتجاج نے ایک بار پھر بھارت میں ریزرویشن کے حساس موضوع کو سرخیوں میں لا کھڑا کیا ہے، جہاں سیاسی جماعتیں بھی اس معاملے پر منقسم نظر آتی ہیں۔ فی الحال جنتر منتر پر صورتحال پرسکون ہے تاہم پولیس کی بھاری نفری اب بھی علاقے میں تعینات ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کے غیر قانونی اجتماع کی اجازت نہیں دی جائے گی اور امن عامہ کو خراب کرنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دوسری جانب، مظاہرین نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کی منظوری تک اپنی آواز اٹھاتے رہیں گے، جس سے آنے والے دنوں میں اس تحریک کے مزید پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔