LIVE
Loading Breaking News...

رینگنے والے جانوروں میں بچوں کی پرورش اور نگہداشت: سچائی کیا ہے؟

News Image
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ تمام رینگنے والے جانور انڈے دینے کے بعد بچوں کی دیکھ بھال نہیں کرتے۔ تاہم جدید سائنسی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ریپٹائلز کی کئی اقسام اپنے بچوں کی حفاظت اور پرورش میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔
عام طور پر عوامی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ رینگنے والے جانور یعنی ریپٹائلز انڈے دینے کے بعد اپنے بچوں سے لاتعلق ہو جاتے ہیں اور انہیں اپنی بقا کی جنگ تنہا لڑنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ رینگنے والے جانوروں کی ایک بڑی تعداد اپنے بچوں کی دیکھ بھال نہیں کرتی، لیکن حیاتیاتی تحقیق کے مطابق یہ نظریہ مکمل طور پر درست نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ریپٹائلز کی دنیا میں بھی والدین کی جانب سے نگہداشت اور حفاظت کے بہت سے دلچسپ اور حیران کن پہلو موجود ہیں۔ کچھ اقسام، خاص طور پر مگرمچھ (Crocodiles)، اپنے بچوں کی پرورش میں غیر معمولی دلچسپی لیتے ہیں۔ مادہ مگرمچھ نہ صرف انڈوں کی حفاظت کرتی ہے بلکہ انڈوں سے نکلنے والے بچوں کو اپنے منہ میں اٹھا کر محفوظ پانی تک پہنچاتی ہے اور کافی عرصے تک ان کی حفاظت کرتی ہے۔ اسی طرح، کچھ سانپوں کی اقسام بھی ایسی ہیں جو اپنے انڈوں پر کنڈلی مار کر بیٹھتی ہیں تاکہ نہ صرف انہیں گرم رکھا جا سکے بلکہ شکاریوں سے ان کی حفاظت بھی ممکن بنائی جا سکے۔ یہ رویہ اس بات کی دلیل ہے کہ رینگنے والے جانور بھی اپنی نسل کی بقا کے لیے ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ مزید برآں، اسکینک (Skinks) جیسے چھوٹے رینگنے والے جانوروں میں بھی ماں کی جانب سے بچوں کی نگرانی کے شواہد ملے ہیں۔ یہ مائیں اپنے بچوں کو خوراک تلاش کرنے میں مدد دیتی ہیں اور کسی بھی خطرے کی صورت میں انہیں اپنے جسم کے نیچے چھپا لیتی ہیں۔ یہ طرز عمل ان جانوروں کی پیچیدہ سماجی زندگی اور ان کے فطری جبلتوں کو ظاہر کرتا ہے جنہیں اب تک سائنسدان نظر انداز کرتے رہے تھے۔ خلاصہ یہ کہ رینگنے والے جانوروں کے بارے میں یہ عمومی تصور کہ وہ مکمل طور پر لاپرواہ ہوتے ہیں، سائنسی طور پر غلط ثابت ہو رہا ہے۔ اگرچہ یہ دیکھ بھال ممالیہ جانوروں یا پرندوں جیسی نہیں ہوتی، تاہم ریپٹائلز کی دنیا میں والدین کی قربانی اور تحفظ کا جذبہ ان کی بقا میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جدید تحقیق اس شعبے میں مزید نئے پہلوؤں کو سامنے لا رہی ہے، جس سے ہمیں فطرت کے اس خاموش اور پراسرار گوشے کو سمجھنے میں مدد مل رہی ہے۔