World
امریکی طیارے کی آبنائے تائیوان سے پرواز اور چین کا ردعمل
امریکی بحریہ کے ایک نگرانی کرنے والے طیارے نے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے آبنائے تائیوان سے پرواز کی ہے۔ اس اقدام کے بعد چینی فوج نے طیارے کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھی اور اسے اپنی نگرانی میں رکھا۔
امریکی بحریہ کے ایک نگرانی کرنے والے طیارے نے حال ہی میں آبنائے تائیوان کے اوپر سے پرواز کی ہے، جس کے بارے میں پینٹاگون کا کہنا ہے کہ یہ بین الاقوامی قوانین کے تحت آزاد اور کھلے انڈو پیسفک کے لیے امریکی عزم کا اظہار ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر چین اور امریکا کے درمیان سفارتی اور عسکری تعلقات انتہائی حساس دور سے گزر رہے ہیں، اور دونوں عالمی طاقتوں کے رہنماؤں کے درمیان متوقع ملاقات سے قبل اس طرح کے اقدامات خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
اس پرواز کے ردعمل میں، چینی فوج نے فوری طور پر اپنے لڑاکا طیاروں اور نگرانی کے نظام کو متحرک کر دیا تاکہ امریکی طیارے کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔ چینی حکام نے اس اقدام کو اپنی خود مختاری کی خلاف ورزی اور خطے کے استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ چینی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ان کی فوج ہائی الرٹ پر ہے اور کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ تائیوان کے قریب ہونے والی اس فضائی کارروائی نے ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کو ہوا دی ہے۔
امریکی فوجی قیادت کا موقف ہے کہ یہ معمول کا گشت ہے جو بین الاقوامی سمندری اور فضائی حدود میں آزادیِ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ واشنگٹن کا اصرار ہے کہ آبنائے تائیوان ایک بین الاقوامی گزرگاہ ہے اور وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس خطے میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ تاہم، تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایسی کارروائیاں براہ راست چین کے لیے ایک پیغام ہیں کہ امریکا خطے میں اپنی موجودگی کو کم نہیں کرے گا۔
آئندہ چند روز میں ہونے والی متوقع اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے تناظر میں، یہ واقعہ انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ عالمی مبصرین کا خیال ہے کہ دونوں ممالک کے سربراہان کو اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ تصادم سے بچا جا سکے۔ تائیوان کے معاملے پر امریکا اور چین کے مابین جاری یہ رسہ کشی نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معاشی اور سیاسی صورتحال پر اثر انداز ہو رہی ہے۔