LIVE
Loading Breaking News...

اوٹزی دی آئس مین: 5300 سال قدیم قتل کا معمہ جو آج بھی حل نہ ہو سکا

News Image
سن 1991 میں الپس کے پہاڑوں سے ملنے والی ایک قدیم لاش نے ماہرینِ آثار قدیمہ اور تفتیش کاروں کو حیران کر دیا ہے۔ یہ 5300 سال پرانی لاش ایک ایسے شخص کی ہے جو تیر لگنے سے ہلاک ہوا اور آج بھی یہ کیس دنیا کا سب سے پرانا حل طلب قتل قرار دیا جاتا ہے۔
سن 1991 میں اٹلی اور آسٹریا کی سرحد پر واقع آلپس کے پہاڑوں میں ہائیکنگ کرنے والے کچھ کوہ پیماؤں کو ایک ایسا منظر دیکھنے کو ملا جس نے تاریخ کے تمام اوراق الٹ کر رکھ دیے۔ برف پگھلنے کے بعد انہیں ایک لاش نظر آئی، جسے انہوں نے کسی حالیہ حادثے کا شکار کوہ پیما سمجھ کر فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ تاہم، جب ماہرین نے اس لاش کا تفصیلی معائنہ کیا تو انکشاف ہوا کہ یہ کوئی جدید حادثہ نہیں بلکہ 5300 سال پرانی ایک تاریخی دریافت ہے، جسے آج دنیا 'اوٹزی دی آئس مین' (Otzi the Iceman) کے نام سے جانتی ہے۔ اس قدیم لاش کے ساتھ ملنے والی اشیاء نے محققین کو مزید حیرت میں مبتلا کر دیا۔ اس شخص کے جسم پر 61 ٹیٹوز موجود تھے، جو اس دور کے ثقافتی رجحانات کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس کے پاس سے ایک نامکمل تیر کمان بھی برآمد ہوئی، لیکن سب سے زیادہ چونکا دینے والی دریافت اس کے کندھے میں پیوست ایک تیر کا نشان تھا، جس سے یہ ثابت ہوا کہ اس کی موت طبعی نہیں بلکہ اسے قتل کیا گیا تھا۔ گہرے سائنسی تجزیوں کے بعد اب اس کیس کو دنیا کا 'سب سے قدیم حل طلب قتل کا مقدمہ' قرار دیا جاتا ہے۔ جیسے جیسے سائنس نے ترقی کی، اس لاش پر ہونے والی تحقیقات میں مزید پیچیدگیاں سامنے آتی گئیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اسے ممکنہ طور پر پیچھے سے تیر مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ اگرچہ پانچ ہزار سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے، لیکن اس شخص کی زندگی، اس کی خوراک، بیماریوں اور آخری لمحات کے بارے میں ملنے والی معلومات آج بھی جدید فرانزک سائنس کے لیے ایک چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ یہ کیس صرف ایک لاش کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی ارتقاء اور قدیم دور میں ہونے والے تشدد کے ان پہلوؤں کو سامنے لاتا ہے جو اب تک پردہ غیب میں تھے۔ آج یہ لاش ایک خصوصی سرد خانہ نما میوزیم میں محفوظ ہے جہاں اسے سخت نگرانی میں رکھا گیا ہے تاکہ تاریخ کا یہ انمول نمونہ محفوظ رہ سکے۔ محققین کا دعویٰ ہے کہ ہر گزرتے سال کے ساتھ اس پر ہونے والی نئی تحقیق سے نئے حقائق سامنے آ رہے ہیں، لیکن اس کا قاتل کون تھا اور اس وقت کیا حالات تھے، یہ وہ سوال ہے جس کا جواب شاید وقت کے سمندر میں ہمیشہ کے لیے گم ہو چکا ہے۔