Technology
جوہری فضلے سے 90 فیصد بجلی: انقلابی ٹیکنالوجی متعارف
آرگون نیشنل لیبارٹری اور دیگر شراکت داروں نے جوہری فضلے کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کے لیے ایک جدید ہائی اسپیڈ سینٹری فیوج سسٹم تیار کیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی جوہری ایندھن میں موجود 90 فیصد ضائع شدہ توانائی کو دوبارہ حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
آرگون نیشنل لیبارٹری، شائن (SHINE) اور کیس ویسٹرن ریزرو یونیورسٹی کے ماہرین نے مشترکہ طور پر ایک ایسی جدید ٹیکنالوجی پر کام شروع کیا ہے جو ایٹمی توانائی کی صنعت میں انقلاب برپا کر سکتی ہے۔ یہ ٹیم ایک خصوصی ہائی اسپیڈ کیمیکل سیپریشن سسٹم تیار کر رہی ہے جس کا مقصد جوہری فضلے کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانا ہے۔ موجودہ طریقہ کار میں استعمال شدہ جوہری ایندھن کو ری سائیکل کرنا انتہائی مشکل اور مہنگا عمل سمجھا جاتا ہے، تاہم اس نئی تحقیق سے 90 فیصد تک ضائع شدہ توانائی کو واپس حاصل کرنا ممکن ہو جائے گا۔
اس منصوبے میں آرگون لیبارٹری کے 'پیکڈ سینٹری فیوگل ایکوپمنٹ' کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ یہ سسٹم جوہری ایندھن کے ری پروسیسنگ کے عمل کو نہ صرف زیادہ تیز بناتا ہے بلکہ اسے پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ بھی بناتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جوہری ری ایکٹرز سے نکلنے والے فضلے میں اب بھی بہت زیادہ توانائی موجود ہوتی ہے جسے مناسب کیمیائی عمل کے ذریعے دوبارہ بجلی پیدا کرنے کے کام میں لایا جا سکتا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کے کامیاب تجربات سے جوہری فضلے کے ذخیرہ کرنے کے مسائل بھی کافی حد تک کم ہو سکتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کے ماہرین اسے توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے ایک بڑی پیشرفت قرار دے رہے ہیں۔ اگر یہ تجربات کمرشل سطح پر کامیاب ہوتے ہیں تو دنیا بھر کے جوہری بجلی گھر اپنے ایندھن کی افادیت کو کئی گنا بڑھا سکیں گے، جس سے ماحول پر پڑنے والے اثرات میں بھی کمی آئے گی۔ یہ تحقیق اس بات کا ثبوت ہے کہ سائنسی جدت کے ذریعے کس طرح ایسے مواد کو قابلِ استعمال بنایا جا سکتا ہے جنہیں اب تک ایک بوجھ یا ماحولیاتی خطرہ سمجھا جاتا تھا۔ کیس ویسٹرن ریزرو یونیورسٹی کے محققین اس سسٹم کو مزید بہتر بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں تاکہ اسے عالمی معیار کے مطابق ڈھالا جا سکے۔