LIVE
Loading Breaking News...

میئرز کو ہاؤسنگ اور پلاننگ کے خصوصی اختیارات حاصل، حکومت کا اعلان

News Image
برطانوی حکومت نے ہاؤسنگ بحران پر قابو پانے کے لیے میئرز کو نئے اختیارات دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت وہ مقامی کونسلوں کے فیصلوں کو بدل سکیں گے۔ ہاؤسنگ منسٹر میتھیو پینی کک نے ان تبدیلیوں کو رہائشی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔
برطانیہ کی حکومت نے ملک میں جاری ہاؤسنگ کے سنگین بحران پر قابو پانے کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا ہے جس کے تحت میئرز کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ مقامی کونسلوں کے پلاننگ سے متعلق فیصلوں کو مسترد کر سکیں۔ یہ اقدام حکومت کی جانب سے اس عزم کا حصہ ہے کہ ملک میں نئے گھروں کی تعمیر کی رفتار کو تیز کیا جائے اور ترقیاتی کاموں میں حائل بیوروکریٹک رکاوٹوں کو ختم کیا جائے۔ حکومتی سطح پر اس تبدیلی کو ایک کلیدی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جس سے شہری منصوبہ بندی میں شفافیت اور فعالیت آئے گی۔ اس حوالے سے ہاؤسنگ منسٹر میتھیو پینی کک نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ یہ تبدیلیاں اس لیے ضروری ہیں تاکہ میئرز اپنی متعلقہ حدود میں نئے گھروں کی فراہمی کے عمل کو مؤثر طریقے سے مکمل کر سکیں۔ موجودہ نظام میں کئی مرتبہ مقامی کونسلوں کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کو روک دیا جاتا ہے یا ان میں تاخیر کی جاتی ہے، جس کے باعث ہاؤسنگ کے اہداف حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ نئے اختیارات ملنے کے بعد، میئرز کے پاس یہ طاقت ہوگی کہ وہ عوامی مفاد اور قومی ہاؤسنگ حکمت عملی کے پیش نظر فیصلوں کو ترجیح دے سکیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم جہاں ایک طرف ہاؤسنگ سیکٹر میں تیزی لائے گا، وہیں دوسری طرف مقامی حکومتوں کے درمیان اختیارات کے حوالے سے بحث بھی چھڑ سکتی ہے۔ تاہم، حکومت کا موقف ہے کہ ملک میں رہائش کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے سخت اور فوری فیصلوں کی ضرورت ہے۔ حکومت کا مقصد ہے کہ اگلے چند سالوں میں لاکھوں نئے گھر تعمیر کیے جائیں تاکہ عام شہریوں کے لیے رہائش کے مسائل کم ہو سکیں۔ حکومت نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ان اختیارات کا استعمال ایک متعین فریم ورک کے تحت کیا جائے گا تاکہ عوامی حقوق کا بھی تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ میئرز کو اب اپنے علاقوں کی ترقی کے لیے زیادہ جوابدہ بنایا جائے گا اور ان کی کارکردگی کا موازنہ نئے گھروں کی بروقت فراہمی سے کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ اس پالیسی کے نفاذ سے برطانیہ کے تعمیراتی شعبے میں ایک نئی لہر آئے گی اور معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔