LIVE
Loading Breaking News...

کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی جنگ میں شدت

News Image
کینیڈا نے امریکہ کی جانب سے تجارتی پابندیوں کے جواب میں جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ نئی پابندیاں 8 ستمبر سے امریکی اسٹیل اور الیکٹرانکس سمیت دیگر درآمدی اشیاء پر لاگو ہوں گی۔
کینیڈا اور امریکہ کے مابین جاری تجارتی تناؤ میں اس وقت مزید شدت آ گئی ہے جب کینیڈا نے امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ سابق مرکزی بینک کے گورنر مارک کارنی کے مطابق، کینیڈا حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ امریکہ سے درآمد ہونے والی اسٹیل، الیکٹرانکس اور دیگر اہم اشیاء پر بھاری ٹیرف عائد کرے گی، جس کا نفاذ 8 ستمبر سے شروع ہو جائے گا۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری تجارتی اختلافات کا ایک نیا موڑ ہے جو عالمی معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کینیڈا کا یہ فیصلہ امریکی تجارتی اقدامات کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے کینیڈا کی برآمدات پر لگائی گئی پابندیوں کے بعد کینیڈین حکام کافی عرصے سے جوابی حکمت عملی پر غور کر رہے تھے۔ اب جبکہ ٹیرف کی تاریخ کا اعلان کر دیا گیا ہے، اس سے دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات میں ایک نیا بحران جنم لے رہا ہے۔ مارک کارنی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ کینیڈا اپنی قومی معیشت اور مقامی صنعتوں کے تحفظ کے لیے ایسے سخت فیصلے کرنے پر مجبور ہے۔ اس تجارتی کشمکش کے اثرات صرف امریکہ اور کینیڈا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کا اثر سپلائی چین اور عالمی منڈیوں پر بھی پڑنے کا خدشہ ہے۔ خاص طور پر اسٹیل اور الیکٹرانکس کی صنعت سے وابستہ تاجروں میں بے چینی پائی جاتی ہے کیونکہ ان مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے صارفین براہ راست متاثر ہوں گے۔ کینیڈین حکومت نے امید ظاہر کی ہے کہ اس جوابی اقدام سے امریکہ کو اپنی تجارتی پالیسی پر نظرثانی کرنے کا موقع ملے گا تاکہ تنازعے کو افہام و تفہیم سے حل کیا جا سکے۔ ماہرین معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ تجارتی جنگ جاری رہی تو دونوں ممالک کے کاروباری شعبے کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کینیڈا اور امریکہ کے درمیان سرحد پار تجارت اربوں ڈالر مالیت کی ہے، اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ دونوں معیشتوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی۔ فی الحال تمام تر نظریں 8 ستمبر پر مرکوز ہیں کہ آیا اس تاریخ تک کوئی سفارتی حل نکلتا ہے یا تجارتی جنگ کا دائرہ کار مزید وسیع ہو جائے گا۔