LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان اور ملائیشیا میں سیکیورٹی اور امیگریشن امور پر اہم معاہدہ

News Image
پاکستان اور ملائیشیا نے انسداد دہشت گردی، سائبر کرائم اور غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا ہے۔
اسلام آباد میں پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ملائیشیا کے وزیر برائے امور داخلہ داتک سری سیف الدین ناسوتیون اسماعیل کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطحی وفود کی سطح پر بات چیت میں سیکیورٹی اور امیگریشن کے شعبوں میں گہرے تعاون پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اس اہم پیش رفت کے تحت دونوں ممالک کی وزارت داخلہ کے مابین ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کیا جائے گا، جس کا بنیادی مقصد انسداد دہشت گردی، منشیات کی روک تھام، سائبر کرائم کا خاتمہ اور غیر قانونی امیگریشن کو کنٹرول کرنا ہوگا۔ اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان پولیس فورسز کے مابین تربیتی پروگراموں کو وسعت دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کی نیشنل پولیس اکیڈمی اور رائل ملائیشیا پولیس کالج کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جائے گا تاکہ دونوں ممالک کی پولیس کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔ ملاقات کے دوران سیاحت کو فروغ دینے اور پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا کے عمل کو مزید آسان بنانے پر بھی سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ وزیر داخلہ نے امید ظاہر کی کہ ملائیشیا کی جانب سے پاکستانی ورک کوٹے میں اضافہ دونوں ممالک کے شہریوں کے لیے روزگار کے قانونی مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ دریں اثنا، ملائیشیا کے وزیر داخلہ نے صدر آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کی، جس میں صدر پاکستان نے دونوں برادر ممالک کے درمیان اسٹریٹجک اتحاد کو مزید گہرا کرنے پر زور دیا۔ صدر زرداری نے انسانی اسمگلنگ اور تارکین وطن کی غیر قانونی نقل و حمل جیسے بین الاقوامی نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے متفقہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ داخلی سیکیورٹی، امیگریشن اور عدالتی معاملات میں اداروں کے درمیان مضبوط روابط وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق پایا گیا کہ پاکستان کا ایک اعلیٰ سطحی وفد جلد ملائیشیا کا دورہ کرے گا تاکہ ان معاہدوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مزید پیش رفت کی جا سکے۔