Technology
شمالی کوریا کی اوپن سورس سافٹ ویئر پر ہیکنگ مہم، ایمازون کا بڑا انکشاف
ایمازون کے محققین نے انکشاف کیا ہے کہ شمالی کوریا سے وابستہ ہیکرز اوپن سورس سافٹ ویئر کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ مہم مارچ 2025 سے جاری ہے اور اس کا دائرہ کار توقع سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
ایمازون کے سکیورٹی محققین نے ایک اہم انکشاف میں بتایا ہے کہ شمالی کوریا سے تعلق رکھنے والا ایک ہیکر گروپ عالمی سطح پر اوپن سورس سافٹ ویئر کو نشانہ بنانے والی سائبر حملوں کی ایک بڑی مہم میں ملوث پایا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق مارچ 2025 سے اب تک اس طرح کے کم از کم چار بڑے واقعات سامنے آ چکے ہیں، جنہوں نے اس سائبر خطرے کے پھیلاؤ اور سنگین نوعیت کو اجاگر کیا ہے۔ اس نئی تحقیق سے شمالی کوریا کے ہیکنگ نیٹ ورک کے نئے حربے دنیا کے سامنے آئے ہیں جو تکنیکی ماہرین کے لیے شدید تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق، یہ ہیکر گروپس ڈیجیٹل سپلائی چین کو کمزور کرنے کی غرض سے مختلف اوپن سورس پلیٹ فارمز میں مداخلت کر رہے ہیں۔ وہ سافٹ ویئر ڈویلپرز اور کمپنیوں کے استعمال کردہ عام کوڈز میں خامیاں یا مالویئر داخل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ بعد میں خفیہ معلومات تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ ایمازون کی سکیورٹی ٹیم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جدید دور میں اوپن سورس سافٹ ویئر کی حفاظت انتہائی ضروری ہو چکی ہے کیونکہ یہ ادارے اب عالمی انفراسٹرکچر کا بنیادی حصہ بن چکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے ہیکرز مالیاتی فوائد حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اسٹریٹجک انٹیلی جنس جمع کرنے کے لیے بھی سائبر حملوں کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس طرح کے حملے نہ صرف بڑی کارپوریشنز بلکہ عام صارفین کے ڈیٹا کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔ ایمازون اور دیگر تکنیکی ادارے اس حملے کے اثرات کا تخمینہ لگانے اور مستقبل میں اس قسم کی دراندازی کو روکنے کے لیے جدید ترین دفاعی اقدامات وضع کر رہے ہیں۔
اس واقعے کے بعد عالمی سطح پر سائبر سکیورٹی کے ماہرین نے تمام اداروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے اوپن سورس سسٹمز اور سافٹ ویئر ڈپینڈینسیز کا باریک بینی سے جائزہ لیں۔ حکومتیں اور نجی ادارے اب مشترکہ طور پر ان حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں تاکہ ڈیجیٹل دنیا کو اس طرح کے خطرناک خطرات سے محفوظ بنایا جا سکے۔