Pakistan
مستونگ دھماکہ: سکیورٹی فورسز کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں سڑک کنارے نصب بم دھماکے کے نتیجے میں ایک سکیورٹی اہلکار شہید اور چھ زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں ہفتے کے روز ہونے والے ایک دھماکے کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز کا ایک اہلکار شہید اور چھ دیگر زخمی ہو گئے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر گشت کرنے والی سکیورٹی فورسز کی گاڑیوں کا قافلہ وہاں سے گزر رہا تھا۔ سڑک کے کنارے پہلے سے نصب ایک طاقتور دھماکہ خیز مواد کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اس وقت اڑا دیا گیا جب سکیورٹی گاڑی وہاں پہنچی، جس کی زد میں آ کر ایک گاڑی کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ قافلے کی دیگر گاڑیاں محفوظ رہیں۔
دھماکے کے فوراً بعد علاقے میں شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، تاہم مزید سکیورٹی نفری کی آمد کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ واقعے کے بعد ریسکیو ٹیموں اور سکیورٹی فورسز نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور زخمی ہونے والے اہلکاروں کو فوری طور پر نواب غوث بخش رئیسانی میموریل ہسپتال منتقل کیا۔ ہسپتال انتظامیہ نے ایک اہلکار کی شہادت کی تصدیق کی ہے جبکہ چھ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ دھماکے کی شدت کے باعث شاہراہ پر ٹریفک کا نظام معطل کر دیا گیا اور سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ اور قریبی پہاڑی سلسلوں میں ملزمان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ یہ اس علاقے میں دہشت گردی کا دو دنوں میں دوسرا بڑا واقعہ ہے۔ اس سے ایک روز قبل اسی علاقے میں سیب کے باغ میں کام کرنے والے چار مزدوروں کو بم دھماکے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں چار افراد جاں بحق اور تین زخمی ہوئے تھے۔ ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ دونوں واقعات میں استعمال ہونے والے دھماکہ خیز مواد میں بڑے پیمانے پر چھروں کا استعمال کیا گیا، جس سے جانی نقصان زیادہ ہوا۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور حساس مقامات پر گشت بڑھا دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان اور دیگر اعلیٰ حکام نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور سکیورٹی اداروں سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔