LIVE
Loading Breaking News...

چھتیس گڑھ کا پی ایم گتی شکتی پلیٹ فارم کے تحت ٹیکنالوجی اور لاجسٹکس میں اضافہ

News Image
ریاست چھتیس گڑھ نے جیو اسپیشل ٹیکنالوجی کے استعمال اور لاجسٹکس نیٹ ورک کو جدید بنانے کیلئے دو اہم معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ ان معاہدوں کا مقصد صوبے میں پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دینا اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
ریاست چھتیس گڑھ نے اپنی لاجسٹکس اور بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پی ایم گتی شکتی (PM GatiShakti) کے فریم ورک کے تحت دو اہم معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ ان معاہدوں کا مقصد جیو اسپیشل (Geospatial) ٹیکنالوجی کے استعمال کو وسیع کرنا اور ریاست میں اقتصادی ترقی کے عمل کو تیز کرنا ہے۔ اس سلسلے میں ریاست نے BISAG-N اور NLDSL جیسی مستند تنظیموں کے ساتھ شراکت داری قائم کی ہے تاکہ ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، یہ اقدام چھتیس گڑھ کی معاشی ترقی کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔ جیو اسپیشل ٹیکنالوجی کے انضمام سے ریاست کے مختلف محکموں کو اپنے منصوبوں کی نگرانی اور عمل درآمد میں آسانی ہوگی۔ اب تک ریاست کے 35 سے زائد مختلف محکموں کو پی ایم گتی شکتی پلیٹ فارم پر آن بورڈ کیا جا چکا ہے، جو کہ ایک مربوط انتظامی نظام کی جانب اہم قدم ہے۔ جی آئی ایس (GIS) پر مبنی یہ نظام نہ صرف ترقیاتی کاموں میں شفافیت لائے گا بلکہ وسائل کے درست استعمال کو بھی یقینی بنائے گا۔ مزید برآں، یہ ٹیکنالوجی سرمایہ کاروں کو چھتیس گڑھ کی جانب راغب کرنے کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم مہیا کرے گی۔ لاجسٹکس اور بنیادی ڈھانچے کے بہتر نیٹ ورک سے تجارتی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی اور ریاست کے دور دراز علاقوں تک رسائی ممکن ہو سکے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کا یہ استعمال ریاست کے صنعتی منظرنامے کو تبدیل کر دے گا اور مستقبل قریب میں بڑے پیمانے پر نجی اور سرکاری سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی۔ یہ معاہدے وزیراعظم کے گتی شکتی ماسٹر پلان کے وژن کے عین مطابق ہیں، جن کا مقصد پورے ملک میں لاجسٹکس لاگت کو کم کرنا اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ چھتیس گڑھ حکومت اپنی ترقیاتی حکمت عملی میں ان ڈیجیٹل ٹولز کو شامل کر کے نہ صرف اپنی کارکردگی بڑھا رہی ہے بلکہ ایک پائیدار اور مربوط معاشی مستقبل کی جانب بھی گامزن ہے۔ آنے والے وقتوں میں اس اقدام کے مثبت اثرات ریاست کی مجموعی ترقی میں واضح طور پر دیکھے جا سکیں گے۔