LIVE
Loading Breaking News...

یورینیم کان کنی اور عوامی جذبات: مکل سنگما کا مطالبہ

News Image
اپوزیشن لیڈر مکل سنگما نے زور دیا ہے کہ یورینیم کان کنی پر ریاستی حکومت کی پالیسی میں تسلسل اور عوامی رائے کا احترام ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کو کسی بھی قانون سازی سے قبل عوامی تحفظات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
شیلانگ: ریاستی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مکل سنگما نے جمعہ کے روز ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورینیم کان کنی کے انتہائی حساس معاملے پر ریاستی حکومت کا موقف ہر صورت میں عوام کے جذبات کا عکاس ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو اس مسئلے پر نہ صرف مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرنا چاہیے بلکہ پالیسی میں تسلسل کو بھی یقینی بنانا چاہیے تاکہ عوامی اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچے۔ سنگما کے مطابق، ریاست کے وسیع تر مفاد میں ایسے کسی بھی فیصلے کی گنجائش نہیں جو عوام کی خواہشات کے برعکس ہو۔ اپوزیشن لیڈر نے اپنی بات کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ مرکز کی جانب سے لائی جانے والی کوئی بھی نئی قانون سازی یا ترمیم پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے قبل عوامی رائے کا احترام کرنا لازم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی مرکزی حکومت یورینیم نکالنے یا کان کنی کے حوالے سے کوئی قدم اٹھاتی ہے تو اس کے اثرات براہ راست مقامی آبادی پر پڑتے ہیں۔ لہٰذا، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مرکز کے ساتھ بات چیت کے دوران مقامی لوگوں کے خدشات کو ترجیحی بنیادوں پر اٹھائے اور کسی بھی ایسے فیصلے کو یکطرفہ طور پر قبول نہ کرے جس سے ماحولیاتی یا سماجی توازن بگڑنے کا خطرہ ہو۔ سنگما نے اس بات پر بھی مایوسی کا اظہار کیا کہ ماضی میں حکومتوں کے موقف میں تبدیلی آتی رہی ہے، جس سے نہ صرف الجھن پیدا ہوئی بلکہ عوام میں بھی عدم تحفظ کا احساس بڑھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ حکومت کو اس معاملے پر ایک شفاف اور واضح حکمت عملی اپنانی چاہیے جو طویل المدتی بنیادوں پر قائم ہو۔ ان کے مطابق، کسی بھی بڑی معدنیاتی سرگرمی کے لیے سماجی قبولیت اور عوامی حمایت ناگزیر ہے، اور حکومت کو اپنی پالیسی سازی کے عمل میں عوام کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ آخر میں، مکل سنگما نے حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر یورینیم کے معاملے پر عوامی جذبات کو نظر انداز کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اس معاملے پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور وہ کسی بھی ایسے اقدام کی مخالفت کرے گی جو ریاست کے مستقبل اور عوام کی صحت و سلامتی کے خلاف ہو۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ریاستی حکومت اب ہوش کے ناخن لے گی اور مستقبل کے فیصلے کرتے وقت مقامی لوگوں کی آواز کو اہمیت دے گی۔