Business
نیوزی لینڈ میں انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں تاخیر اور معاشی نقصان
نیوزی لینڈ میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تعمیراتی منصوبوں کے بار بار رکنے اور شروع ہونے کی وجہ سے قومی خزانے کو 11.8 ارب ڈالر کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ماہر معاشیات شامیبل ایکوب نے اس صورتحال کو ملکی تعمیراتی شعبے کی کارکردگی کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔
نیوزی لینڈ میں انفراسٹرکچر کے شعبے میں جاری غیر یقینی صورتحال نے ملکی معیشت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق سن 2000 سے اب تک تعمیراتی منصوبوں کے بار بار رکنے اور دوبارہ شروع ہونے کی وجہ سے قومی خزانے کو 11.8 ارب ڈالر کا بھاری نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ ماہر معاشیات شامیبل ایکوب نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کا تعمیراتی شعبہ ایک فلائی وہیل کی طرح ہے، جسے چلانے کے لیے بڑی توانائی کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ایک بار رفتار پکڑ لینے کے بعد یہ خود بخود چلتا رہتا ہے۔ تاہم منصوبہ بندی میں تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے یہ عمل بری طرح متاثر ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی اور بجٹ کے مسائل کی وجہ سے بڑے منصوبے طویل عرصے تک تعطل کا شکار رہتے ہیں۔ جب کسی پروجیکٹ کو اچانک روک دیا جاتا ہے اور بعد میں دوبارہ شروع کیا جاتا ہے تو نہ صرف لاگت میں ہوشربا اضافہ ہوتا ہے بلکہ افرادی قوت اور مشینری کا بھی ضیاع ہوتا ہے۔ شامیبل ایکوب کے مطابق اگر حکومت تعمیراتی شعبے کو ایک مستقل اور یقینی ورک فلو فراہم کرے، تو اس شعبے کی پیداواری صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعمیراتی کمپنیوں کو جب تک کام کے حوالے سے مستقل مزاجی کا یقین نہیں ہوگا، تب تک وہ طویل مدتی سرمایہ کاری کرنے سے گریز کریں گی۔
نیوزی لینڈ کی موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر ایک جامع اور طویل مدتی حکمت عملی وضع کی جائے۔ منصوبہ بندی کے اس عمل میں نجی شعبے کی شمولیت اور فنڈز کی شفاف فراہمی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اگر حکومت تعمیراتی کاموں کے تسلسل کو یقینی بناتی ہے تو نہ صرف اربوں ڈالر کا یہ ضیاع روکا جا سکتا ہے بلکہ ملکی ترقی کی رفتار میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر پالیسیوں میں یہ عدم توازن جاری رہا تو مستقبل میں مزید بڑے اقتصادی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انفراسٹرکچر کسی بھی ملک کی معاشی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ نیوزی لینڈ کو اب اپنی ترجیحات کا ازسرنو تعین کرنا ہوگا تاکہ مستقبل کے منصوبے بروقت مکمل ہو سکیں اور وسائل کا بہترین استعمال ممکن بنایا جا سکے۔ تعمیراتی سیکٹر میں استحکام لانے کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ہر نئی حکومت کے ساتھ منصوبوں کے مستقبل کو خطرات لاحق نہ ہوں۔