LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں نئی ایف ڈی آئی پالیسی: زمینی سرحدوں پر سرمایہ کاری کے اعدادوشمار جاری

News Image
بھارت نے اپنے زمینی ہمسایہ ممالک سے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے نئے ضوابط نافذ کر دیے ہیں جن کے تحت اب تک 29 اہم سودے منظور کیے گئے ہیں۔ ان سرمایہ کاری منصوبوں کی کل مالیت تقریباً 4,895.65 کروڑ بھارتی روپے بتائی گئی ہے۔
بھارتی حکومت نے زمینی سرحدوں سے متصل ممالک سے آنے والی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کے لیے اپنے نظر ثانی شدہ ضوابط کے نفاذ کے بعد اہم پیشرفت کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اب تک کل 29 ایسے سرمایہ کاری کے سودوں کو منظوری دی گئی ہے جن کی مجموعی مالیت 4,895.65 کروڑ بھارتی روپے بنتی ہے۔ یہ اقدام حکومت کی جانب سے قومی سلامتی اور اقتصادی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے سخت اقدامات کا حصہ ہے، جس کے تحت مخصوص ہمسایہ ممالک سے آنے والی سرمایہ کاری کو سخت جانچ پڑتال کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ نئے قواعد و ضوابط کے تحت، ان ممالک کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی تجارتی منصوبے یا سرمایہ کاری کے آغاز سے پہلے بھارتی حکومت سے باقاعدہ منظوری حاصل کریں۔ اس پالیسی کا مقصد سرحد پار سے آنے والی سرمایہ کاری میں شفافیت لانا اور کسی بھی ممکنہ سیکیورٹی خطرات کو کم کرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم مقامی صنعتوں کے تحفظ اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے، جس کے اثرات طویل المدتی بنیادوں پر بھارتی مارکیٹ پر مرتب ہوں گے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، ان 29 سرمایہ کاری منصوبوں کی منظوری بین وزارتی کمیٹی کی سخت جانچ پڑتال کے بعد دی گئی ہے۔ یہ عمل اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ سرمایہ کاری کے پیچھے موجود فنڈز کے ذرائع اور کمپنی کا ڈھانچہ بھارتی قوانین کے عین مطابق ہو۔ بھارت کی جانب سے سرمایہ کاری کے ان قوانین کو اپ ڈیٹ کرنا عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے رجحانات میں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے، جہاں اب اکثر ممالک معاشی خود انحصاری کے ساتھ ساتھ قومی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ آنے والے وقتوں میں، حکومتی عہدیداران کا ماننا ہے کہ اس شفاف اور سخت عمل سے ملک میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا اور غیر قانونی سرمایہ کاری کے راستے بند ہوں گے۔ اگرچہ ان قواعد کے باعث سرمایہ کاری کے عمل میں وقت لگ سکتا ہے، لیکن حکومت اس تاخیر کو ملکی سلامتی کے لیے ایک ضروری سمجھوتہ قرار دیتی ہے۔ بھارت اب ان تمام سرمایہ کاریوں پر مسلسل نگرانی رکھے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ منظور شدہ منصوبے مقررہ شرائط کے مطابق کام کر رہے ہیں۔