LIVE
Loading Breaking News...

ایمیزون کے جنگلات میں قدیم تہذیب کی دریافت - لیڈر ٹیکنالوجی کا کمال

News Image
ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے لیڈر ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایمیزون کے جنگلات میں ایک قدیم تہذیب کے آثار دریافت کیے ہیں جو ماضی میں لاکھوں افراد کا مسکن ہو سکتی تھی۔ یہ حیرت انگیز انکشاف جنگلات کے نیچے چھپے ہوئے جومیٹرک ڈھانچوں اور زمین پر بنی ہوئی ساختوں کے ذریعے سامنے آیا ہے۔
بین الاقوامی ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے جدید لیڈر (LiDAR) ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایمیزون کے گھنے اور ناہموار جنگلات کے نیچے ایک طویل عرصے سے پوشیدہ قدیم تہذیب کے آثار دریافت کر لیے ہیں۔ اس جدید ریڈار ٹیکنالوجی نے گھنے درختوں کی چھتری کے آرپار دیکھ کر زمین کی سطح پر موجود ساختوں کو نمایاں کیا، جس سے یہ انکشاف ہوا کہ یہ خطہ ماضی میں ایک انتہائی منظم اور وسیع انسانی آبادی کا مرکز رہا ہو گا۔ ان حیرت انگیز دریافتوں میں بڑے پیمانے پر زمین پر بنائے گئے جومیٹرک ڈیزائن اور تعمیراتی ڈھانچے شامل ہیں جو اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ قدیم انسانوں نے اس خطے کے قدرتی مناظر کو اپنی آبادی اور زرعی ضروریات کے مطابق بڑے پیمانے پر تبدیل کیا تھا۔ محققین کا خیال ہے کہ اس تہذیب کے عروج کے زمانے میں یہاں لگ بھگ تیس لاکھ افراد آباد ہو سکتے ہیں، جو ایمیزون کے بارے میں ہمارے اس پرانے خیال کو مکمل طور پر بدل دیتا ہے کہ یہ خطہ ہمیشہ سے غیر آباد یا جنگلی رہا ہے۔ تحقیق سے وابستہ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایمیزون کے وسیع و عریض رقبے پر اس طرح کے ہزاروں مقامات اب بھی درختوں اور گھاس پھوس کے نیچے پوشیدہ ہو سکتے ہیں جن کی تاحک تلاش نہیں کی جا سکی۔ یہ دریافتیں اس بات کا ثبوت فراہم کرتی ہیں کہ جنوبی امریکہ کے برساتی جنگلات میں صدیوں پہلے انتہائی پیچیدہ سماجی ڈھانچے اور جدید طرزِ زندگی کے حامل لوگ بستے تھے۔ ماہرین اب ان چھپے ہوئے مقامات کی مزید کھدائی اور تفصیلی تجزیے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ اس گمشدہ تہذیب کے زوال کے اسباب اور ان کے رہن سہن کے طریقوں کے بارے میں مزید حقائق سامنے لائے جا سکیں۔