Sports
بنڈس لیگا میں وی اے آر کے خلاف شائقین کی ملک گیر مہم | نیکسورا نیوز
جرمنی کی بنڈس لیگا اور سیکنڈ بنڈس لیگا کے مختلف فٹ بال کلبوں کے شائقین نے ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (VAR) کے خلاف متحد ہو کر ایک نئی مہم شروع کی ہے۔ مداحوں کا موقف ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی مسلسل مداخلت نے کھیل کے قدرتی جوش اور جذبے کو شدید متاثر کیا ہے۔
جرمنی میں فٹ بال شائقین کے مختلف گروپس نے باہم متحد ہو کر ملک کے دونوں سرفہرست فٹ بال ڈویژنوں، بنڈس لیگا اور سیکنڈ بنڈس لیگا، میں ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (VAR) کے نظام کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے ایک باقاعدہ اور منظم مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ اس تحریک کی قیادت بائرن میونخ کے مشہور الٹراس گروپ 'زیوڈ کوروے' (Südkurve) کر رہا ہے، جبکہ ملک کے دیگر تمام اہم اور معروف کلبوں کے حامیوں کی تنظیمی اکائیاں بھی اس مہم کا بنیادی حصہ بن چکی ہیں۔ شائقین کا مؤقف ہے کہ میدان میں ویڈیو ریفری کی ٹیکنالوجی کی مسلسل مداخلت نے کھیل کی اصل روح کو ختم کر دیا ہے۔ اس مہم کے ذریعے جرمن فٹ بال ایسوسی ایشن اور لیگ حکام پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ میچز کے دوران اس ٹیکنالوجی پر انحصار ختم کریں۔ شائقین کے مطابق وی اے آر کے فیصلوں کے باعث میچ کے دوران بار بار طویل تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے اسٹیڈیم میں موجود ناظرین اور مداحوں کا جوش و خروش ختم ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر گول بننے کے بعد روایتی انداز میں فوری طور پر خوشی اور جشن منانے کی روایت بھی متاثر ہوئی ہے، کیونکہ ہر گول کے بعد ویڈیو چیک کا خوف مسلط رہتا ہے۔ جرمن فٹ بال کی تاریخ میں مداحوں کا دباؤ ہمیشہ سے فیصلہ کن ثابت ہوتا رہا ہے، اور اس سے قبل بھی غیر ملکی سرمایہ کاری جیسے معاہدوں کے خلاف شائقین کے احتجاج نے حکام کو فیصلے واپس لینے پر مجبور کیا تھا۔ گزشتہ میچوں میں بھی شائقین نے اسٹیڈیم میں ٹینس بالز پھینک کر اور احتجاجی بینرز آویزاں کر کے اپنے تحفظات ظاہر کیے تھے۔ شائقین کا کہنا ہے کہ ریفریز کی انسانی غلطیاں کھیل کا قدرتی اور حسن کا حصہ ہیں جنہیں قبول کیا جانا چاہیے، نہ کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے کھیل کی روانی تباہ کی جائے۔ اگرچہ وی اے آر کے حامی اسے منصفانہ فیصلے یقینی بنانے اور غلطیوں کی تصحیح کا بہترین ذریعہ مانتے ہیں، لیکن مداحوں کا اتحاد اسے کھیل سے جذباتی لگاؤ کے منافی سمجھتا ہے۔ فٹ بال حکام فی الحال اس مہم کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم مداحوں کا یہ وسیع ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ بنڈس لیگا کی انتظامیہ کے لیے شائقین کی آواز کو بائے پاس کرنا آسان نہیں ہوگا۔