LIVE
Loading Breaking News...

بانجھ جانور: خچر اور دیگر ہائبرڈ جانور نسل کیوں نہیں بڑھا سکتے؟

News Image
قدرت کے نظام میں کچھ جانوروں میں نسل کو آگے بڑھانے کی صلاحیت موجود نہیں ہوتی جس کی بڑی وجہ کروموسومز کا فرق ہے۔ خچر اس کی سب سے واضح اور مشہور مثال ہے جو تولیدی عمل کے قابل نہیں ہوتا۔
قدرت کے کارخانے میں ہر جاندار کو اپنی نسل کو آگے بڑھانے کی صلاحیت دی گئی ہے، لیکن سائنسی دنیا میں کچھ ایسے جانور بھی پائے جاتے ہیں جو حیاتیاتی طور پر نسل کشی کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔ ان جانوروں کو 'ہائبرڈ' (Hybrid) کہا جاتا ہے، جو دو مختلف انواع کے ملاپ سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں سب سے مشہور مثال 'خچر' (Mule) کی ہے، جو ایک نر گدھے اور مادہ گھوڑی کے ملاپ سے وجود میں آتا ہے۔ اپنی بے پناہ قوتِ برداشت اور محنت کے باوجود، خچر قدرتی طور پر اپنی نسل کو آگے بڑھانے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں۔ اس مسئلے کی بنیادی وجہ کروموسومز (Chromosomes) کی تعداد میں فرق ہے۔ ہر نوع کے جاندار میں کروموسومز کی ایک مخصوص تعداد ہوتی ہے جو ان کی جینیاتی ساخت کا تعین کرتی ہے۔ گھوڑوں میں 64 کروموسومز ہوتے ہیں جبکہ گدھوں میں 62 کروموسومز پائے جاتے ہیں۔ جب ان دونوں کا ملاپ ہوتا ہے تو پیدا ہونے والے خچر میں 63 کروموسومز ہوتے ہیں۔ یہ ایک طاق عدد (Odd Number) ہے، جو تولیدی خلیات یعنی سپرم یا انڈے بننے کے عمل میں شدید رکاوٹ ڈالتا ہے۔ کیونکہ یہ کروموسومز جوڑوں میں نہیں بن پاتے، اس لیے خچر تولیدی لحاظ سے بانجھ قرار دیے جاتے ہیں۔ محققین کے مطابق صرف خچر ہی نہیں بلکہ دیگر کئی ہائبرڈ جانور بھی اسی جینیاتی پیچیدگی کا شکار ہوتے ہیں۔ جب دو مختلف النوع جانوروں کے جینز آپس میں مطابقت نہیں رکھتے، تو ان سے پیدا ہونے والی اولاد کا جینیاتی نظام مکمل نہیں ہو پاتا، جس کے نتیجے میں وہ افزائشِ نسل کے قابل نہیں رہتی۔ یہ ایک فطری رکاوٹ ہے جو قدرت نے مختلف النوع انواع کے درمیان حدود قائم رکھنے کے لیے رکھی ہے۔ خلاصہ یہ کہ ہائبرڈ جانوروں کا بانجھ پن محض ایک حادثہ نہیں بلکہ جینیاتی قوانین کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ سائنس نے جینیاتی انجینئرنگ میں کافی ترقی کر لی ہے، لیکن اب بھی قدرتی طور پر وجود میں آنے والے ان ہائبرڈ جانوروں کی تولیدی صلاحیت کو تبدیل کرنا ممکن نہیں ہو سکا۔ یہ تحقیق ہمیں نہ صرف جانوروں کے بارے میں مزید معلومات فراہم کرتی ہے بلکہ جینیات کے اس پیچیدہ عمل کو سمجھنے میں بھی مدد دیتی ہے جس پر زندگی کا سارا دارومدار ہے۔