Politics
حیدرآباد میں وحدتِ سندھ مارچ، نئے صوبوں کی مخالفت
حیدرآباد میں نئے صوبوں کے قیام کی تجویز کے خلاف 'وحدتِ سندھ مارچ' نکالا گیا جس میں سیاسی رہنماؤں نے صوبے کی تقسیم کی سختی سے مخالفت کی۔ اس دوران ملک میں انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کے قیام کی بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔
حیدرآباد میں نئے صوبوں کے قیام کی مبینہ تجویز اور انتظامی یونٹس کی بحث کے خلاف شہر میں 'وحدتِ سندھ مارچ' کا انعقاد کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں شہریوں اور سیاسی کارکنوں نے شرکت کی۔ مارچ کے شرکاء کا کہنا تھا کہ سندھ کی جغرافیائی اور تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مقررین نے زور دیا کہ صوبے کو تقسیم کرنے کے بجائے موجودہ انتظامی نظام کو بہتر بنانے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم پر توجہ دی جائے۔ یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں نئے انتظامی یونٹس اور چھوٹے صوبوں کے قیام کے حوالے سے بحث ایک بار پھر گرم ہو چکی ہے۔ دوسری جانب، پاکستان کے مختلف سیاسی حلقوں میں نئے صوبوں کے قیام پر آراء منقسم ہیں۔ کچھ سیاسی رہنماؤں کا ماننا ہے کہ ملک میں بہتر گورننس اور عوامی مسائل کے حل کے لیے چھوٹے انتظامی یونٹس اور نئے صوبے بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ نظام مبینہ طور پر جمود کا شکار ہو چکا ہے۔ اس کے برعکس، سندھ کے اندرونی علاقوں اور قوم پرست جماعتوں کی طرف سے اس قسم کی تجاویز کو صوبے کو کمزور کرنے کی سازش قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صوبوں کی تقسیم کا یہ تنازع ملک میں ایک نئی سیاسی محاذ آرائی کو جنم دے رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس موضوع پر سیاسی جماعتوں کے درمیان مزید گرما گرم بحث اور احتجاجی مظاہروں متوقع ہیں، کیونکہ دونوں فریق اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور کسی بھی قسم کی لچک دکھانے کو تیار نظر نہیں آتے۔