World
ایران کا جنگ بندی کا مطالبہ: صدر کا اہم بیان
ایرانی صدر نے خطے میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اس وقت طاقت کی پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران 'نہ جنگ، نہ امن' کی غیر یقینی صورتحال کو مزید جاری رکھنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
ایرانی صدر نے اپنے حالیہ بیان میں مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ جنگی حالات کو ختم کرکے سفارتی عمل کو آگے بڑھایا جائے۔ صدر نے اس بات پر اصرار کیا کہ ایران اس وقت ایک مستحکم اور طاقتور پوزیشن میں ہے، لہذا یہ درست وقت ہے کہ فریقین کسی سمجھوتے پر پہنچیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران کسی بھی قسم کی غیر ضروری رعایت دینے کے لیے تیار نہیں ہے اور وہ اپنے قومی مفادات کا تحفظ ہر صورت یقینی بنائے گا۔ تہران کی قیادت کا ماننا ہے کہ خطے میں موجودہ 'نہ جنگ، نہ امن' کی صورتحال طویل عرصے تک برقرار نہیں رکھی جا سکتی کیونکہ یہ خطے کے معاشی اور سیاسی استحکام کے لیے نقصان دہ ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، ایران نے اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جنگ کے طوالت سے گریزاں ہے تاہم دفاعی صلاحیتوں پر سمجھوتہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، امریکہ اب براہ راست جنگ کے بجائے اقتصادی پابندیوں اور معاشی دباؤ کے ذریعے ایران کو تنہا کرنے کی حکمت عملی اپنا رہا ہے، جس پر تہران کی جانب سے سخت ردعمل دیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ ایران نے اپنی دفاعی پوزیشن کو مضبوط کر لیا ہے اور اب وقت ہے کہ عالمی طاقتیں اس حقیقت کو تسلیم کریں۔
واشنگٹن میں حکومتی ذرائع اور سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کا مطالبہ دراصل ایک پیچیدہ سفارتی کھیل کا حصہ ہو سکتا ہے۔ تہران کی قیادت نے بارہا اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کریں گے۔ اگرچہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر کوششیں جاری ہیں، تاہم حتمی نتیجے کے لیے ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان وسیع تر مذاکرات کی ضرورت ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دن یہ واضح کریں گے کہ آیا یہ بیانات صرف زبانی جمع خرچ ہیں یا خطے میں امن کی بحالی کے لیے واقعی کسی سنجیدہ پیش رفت کا آغاز ہیں۔