Business
پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی، ہنڈریڈ انڈیکس 2900 پوائنٹس سے زائد گر گیا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے دوران شدید مندی دیکھی گئی جس کے نتیجے میں انڈیکس 2,938 پوائنٹس تک گر گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروباری ہفتے کے اختتام پر شدید مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے جس کے نتیجے میں بینچ مارک KSE-100 انڈیکس 2,938 پوائنٹس کی بڑی کمی کے ساتھ بند ہوا۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق، اس مندی کی بنیادی وجہ عالمی سطح پر خاص طور پر آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی ہے۔ ہرمز میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے، جس کے باعث حصص کی فروخت میں تیزی دیکھی گئی اور مارکیٹ کا مجموعی رخ منفی ہو گیا۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ عالمی توانائی کی ترسیل کے اہم ترین راستے یعنی آبنائے ہرمز میں کشیدگی کا براہ راست اثر عالمی منڈیوں پر پڑ رہا ہے، جس کی بازگشت پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بھی سنائی دے رہی ہے۔ سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری کو محفوظ رکھنے کے لیے محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ٹریڈنگ والیوم میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ حالیہ ہفتے کے دوران اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کے کچھ رجحانات بھی دیکھے گئے تھے، لیکن ہفتہ وار اختتام پر بیرش ٹرینڈ (منفی رجحان) نے گزشتہ تین سیشنز کی بہتری کو بھی ختم کر دیا ہے۔
مزید برآں، ملک کی موجودہ معاشی صورتحال اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں غیر متوقع تبدیلیوں نے بھی اسٹاک مارکیٹ کے شرکاء کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اگرچہ مارکیٹ میں وقفے وقفے سے کچھ سیکٹرز میں خریداری کا رجحان بھی دیکھا گیا، تاہم مجموعی طور پر فروخت کا دباؤ اتنا زیادہ تھا کہ انڈیکس خود کو برقرار رکھنے میں ناکام رہا۔ آنے والے دنوں میں سرمایہ کاروں کی نظریں ہرمز کی صورتحال پر جمی رہیں گی، کیونکہ خطے میں امن اور استحکام ہی اسٹاک مارکیٹ میں بحالی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
مجموعی طور پر، پاکستان اسٹاک مارکیٹ کا 1.6 فیصد گرنا ملکی معیشت کے حوالے سے ایک اہم انتباہ ہے، جس کے لیے پالیسی سازوں کو معاشی اعشاریوں کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ جغرافیائی حالات کے پیش نظر پیشگی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی بڑے فیصلے سے قبل مارکیٹ کے تجزیات اور عالمی خبروں کا بغور جائزہ لیں تاکہ کسی بھی غیر متوقع نقصان سے بچا جا سکے۔