LIVE
Loading Breaking News...

چاڈ میں سولر پاور سے چلنے والے طبی مراکز کا قیام

News Image
وسطی افریقی ملک چاڈ کے دور دراز علاقوں میں شمسی توانائی سے چلنے والے کِوسکس نے طبی خدمات کے حصول کو آسان بنا دیا ہے۔ ٹیکنالوجی کی اس مدد سے مقامی آبادی اب طویل سفر کیے بغیر ماہر ڈاکٹروں سے طبی مشورے حاصل کر رہی ہے۔
وسطی افریقہ کے ملک چاڈ کے دور دراز اور پسماندہ دیہی علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولیات کا فقدان ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے۔ تاہم، اب جدید ٹیکنالوجی بالخصوص شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیلی میڈیسن کِوسکس (Solar Kiosks) اس صورتحال کو تیزی سے تبدیل کر رہے ہیں۔ ان مراکز کے قیام سے ان علاقوں کے رہائشیوں کو اب ماہر ڈاکٹروں سے رابطہ کرنے کے لیے سینکڑوں کلومیٹر کا طویل اور کٹھن سفر کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ شمسی توانائی کا استعمال اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ ان علاقوں میں بجلی کا نظام نہ ہونے کے برابر ہے، اور یہ پائیدار توانائی کا ذریعہ پورے سسٹم کو بلا تعطل چلانے میں مدد دیتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت، مقامی صحت کے مراکز میں جدید آلات نصب کیے گئے ہیں جو مصنوعی سیاروں اور انٹرنیٹ کے ذریعے بڑے شہروں میں موجود ماہر طبی ماہرین سے منسلک ہیں۔ یہ ٹیلی میڈیسن سسٹم مریضوں کو فوری طبی تشخیص اور ضروری مشورے فراہم کرنے کے قابل بناتا ہے۔ جب کسی مریض کو طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے، تو مقامی ہیلتھ ورکرز ان سولر مراکز کی مدد سے ڈیجیٹل اسکرین پر ڈاکٹروں سے براہ راست رابطہ کرتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت اب پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص بھی مقامی سطح پر ممکن ہو رہی ہے، جس سے وقت اور اخراجات دونوں کی بچت ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق، سولر پاور پر مبنی یہ ٹیلی میڈیسن مراکز نہ صرف صحت عامہ کے شعبے میں ایک سنگ میل ہیں بلکہ یہ دیہی علاقوں کی سماجی اور معاشی زندگی پر بھی مثبت اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ صحت مند آبادی کا مطلب ہے بہتر پیداواری صلاحیت، جس سے مقامی معیشت کو بھی تقویت ملتی ہے۔ چاڈ کی حکومت اور بین الاقوامی امدادی تنظیمیں اب اس ماڈل کو مزید علاقوں تک پھیلانے پر غور کر رہی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک طبی رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ اگر مناسب ٹیکنالوجی اور صاف ستھری توانائی کا استعمال کیا جائے تو جغرافیائی رکاوٹیں صحت کی خدمات کی فراہمی میں حائل نہیں ہو سکتیں۔ آنے والے وقتوں میں، امید کی جا رہی ہے کہ ان سولر کِوسکس میں مزید طبی ٹیسٹ کرنے والی لیبارٹریوں کی سہولیات بھی شامل کی جائیں گی۔ اس پیش رفت سے مقامی صحت کے نظام میں خود انحصاری آئے گی اور بیماریوں پر قابو پانے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگا۔ چاڈ میں شروع ہونے والا یہ کامیاب تجربہ دیگر افریقی اور ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے جہاں وسائل کی کمی اور فاصلے مریضوں کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔