LIVE
Loading Breaking News...

کرپٹو آپریٹرز کے لیے این او سی کی 5 ستمبر آخری تاریخ مقرر - پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی

News Image
پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی نے ملک میں کام کرنے والے تمام ورچوئل ایسٹ سروس فراہم کنندگان کو 5 ستمبر تک این او سی حاصل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ مقررہ تاریخ تک لائسنس نہ حاصل کرنے والے آپریٹرز کو اپنی سرگرمیاں فوری طور پر بند کرنا ہوں گی۔
پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) نے ملک میں کام کرنے والے موجودہ ورچوئل ایسٹ سروس پرووائیڈرز (وی اے ایس پیز) کے لیے نو اعتراض سرٹیفکیٹ (این او سی) حاصل کرنے کی آخری تاریخ 5 ستمبر 2026 مقرر کر دی ہے۔ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ جو کرپٹو آپریٹرز مقررہ تاریخ تک این او سی کی درخواستیں جمع کروانے میں ناکام رہیں گے، انہیں اپنی تمام تر مالیاتی و تجارتی سرگرمیاں فوری طور پر معطل کرنا ہوں گی۔ اگرچہ پاکستان میں عام سطح پر ورچوئل یا ڈیجیٹل کرنسیوں کا استعمال ابھی زیادہ وسیع نہیں ہے، تاہم مالیاتی ماہرین کے مطابق پاکستانی شہریوں کی جانب سے اس شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے۔ حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اس ابھرتی ہوئی مارکیٹ کو قانونی دائرہ کار میں لانے اور سرمایہ کاروں کی حفاظت کے لیے تیز رفتار اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ پی وی اے آر اے کے مطابق پاکستان کا ورچوئل ایسٹ لائسنسنگ فریم ورک اب مکمل طور پر فعال ہو چکا ہے۔ اتھارٹی نے اس بات پر زور دیا کہ صرف چھ ماہ سے بھی کم عرصے میں پاکستان بنیادی قانون سازی سے لے کر باضابطہ ضوابط کی منظوری اور کھلے لائسنسنگ عمل تک کا سفر کامیابی سے طے کر چکا ہے۔ اس شعبے کی نگرانی اور پالیسی سازی کی ذمہ داری بنیادی طور پر وزارتِ خزانہ کے پاس ہے، جس کے تعاون سے پاکستان کرپٹو کونسل قائم کی گئی اور پی وی اے آر اے کو ایک خود مختار ادارے کے طور پر قائم کیا گیا تاکہ شفافیت، قانونی پاسداری اور ڈیجیٹل اثاثوں کی پالیسیوں کی نگرانی کی جا سکے۔ اس پیش رفت سے پاکستان نے واضح قواعد و ضوابط، ریگولیٹری نگرانی اور جوابدہی کے ساتھ عالمگیر ڈیجیٹل ایسٹ اکانومی میں قدم رکھ دیا ہے۔ دوسری جانب، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ڈیجیٹل کرنسیوں پر عائد سابقہ پابندیوں میں ترمیمی ہدایات جاری کی ہیں، جس کے تحت اب منظور شدہ اور لائسنس یافتہ کرپٹو آپریٹرز اور ان کے گاہکوں کو بنکنگ سہولیات میسر ہوں گی۔ مرکزی بینک نے تجارتی بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ لائسنس یافتہ آپریٹرز کے لیے علیحدہ، غیر منافع بخش روپیہ کلائنٹ اکاؤنٹس کھولیں تاکہ صارفین کے فنڈز کو بینک کے ذاتی سرمائے سے الگ رکھا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی، تمام مالیاتی اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ منی لانڈرنگ کی روک تھام (اے ایم ایل)، کسٹمر کی شناخت (کے وائی سی) اور رسک پروفائلنگ کے سخت ترین معیار نافذ کریں۔ بینکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو اثاثوں میں سرمایہ کاری شدید خطرات کے ساتھ ساتھ انتہائی منافع بخش بھی ہو سکتی ہے کیونکہ ان کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے مرکزی بینک ورچوئل اثاثوں کو براہ راست اپنے نظام کا حصہ بنانے سے محتاط رہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ تجارتی بینک اپنے ذاتی سرمائے یا عوام کے جمع شدہ ڈپازٹس کو کرپٹو اثاثوں کی خریداری، تجارت یا ہولڈنگ کے لیے استعمال نہیں کر سکتے، اور بینکوں کا کردار صرف قانونی طور پر مجاز آپریٹرز کو بینکنگ چینلز فراہم کرنے اور لین دین کی نگرانی تک محدود رہے گا۔