LIVE
Loading Breaking News...

سعودی عرب حوثیوں کے خلاف کارروائی کی تیاری میں مصروف

News Image
سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف بحری اور ممکنہ زمینی کارروائی کی تیاریاں شروع کر دی ہیں جبکہ خطے میں تنازع کے پھیلاؤ کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ اس پیش رفت سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف ایک ممکنہ بحری اور زمینی جارحانہ حکمت عملی پر کام شروع کر دیا ہے تاکہ خطے کے اہم آبی راستوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔ حالیہ دنوں میں حوثیوں کی جانب سے بین الاقوامی بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سعودی حکومت نے سخت قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے اور ایک نئی سمندری دفاعی اتحاد کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ اس دفاعی اتحاد کا مقصد بحیرہ احمر اور دیگر اہم تجارتی گزرگاہوں کو محفوظ بنانا ہے جہاں عالمی تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ دوسری جانب چین نے بھی حوثیوں سے رابطہ کرکے اپنے تجارتی جہازوں کے لیے بحیرہ احمر میں محفوظ راستے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس کے معاشی مفادات متاثر نہ ہوں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس صورتحال نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور مصر سمیت دیگر ممالک بھی اس تنازع کے ممکنہ پھیلاؤ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے حالیہ تبادلوں نے خطے کی سلامتی کو مزید خطرے میں ڈال دیا ہے، جس سے ایک بڑی جنگ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس تمام سٹریٹجک صورتحال اور سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے نئے بحری دفاعی اتحاد کی خبر کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد کی کمی واقع ہوئی ہے کیونکہ سرمایہ کاروں کو رسد کی بحالی کی امید نظر آرہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب کی جانب سے زمینی یا بحری کارروائی کا آغاز ہوتا ہے تو اس کے خطے کی سیاست اور معیشت پر انتہائی دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔