LIVE
Loading Breaking News...

پاکستانی تجارتی عدالت کی تجویز اور قانونی اصلاحات کا چیلنج | تجزیہ

News Image
لا اینڈ جسٹس کمیشن کی جانب سے آئین میں آرٹیکل 212 اے کے تحت انٹرنیشنل کمرشل کورٹ کے قیام کی تجویز سامنے آئی ہے جس کا مقصد غیر ملکی سرمائے کو راغب کرنا ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کے مطابق عدالتی خودمختاری پر تحفظات اور 1940 کے پرانے ثالثی قانون کی موجودگی میں یہ نیا فورم موثر ثابت نہیں ہو سکے گا۔
پاکستان کے لا اینڈ جسٹس کمیشن نے اپنے 49 ویں اجلاس میں آئین میں ایک نیا آرٹیکل 212 اے شامل کرکے 'انٹرنیشنل کمرشل کورٹ آف پاکستان' قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس مجوزہ عدالت کا بنیادی مقصد تجارتی تنازعات کا تیز رفتار حل، ثالثی فیصلوں کا مؤثر نافذ العمل ہونا اور ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔ اگرچہ ان مقاصد کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، تاہم قانونی اور تجارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ عدالتی نظام میں گہرے مسائل کی موجودگی میں محض نئی عمارتیں بنانے یا نئے قوانین متعارف کروانے سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ نہیں ہو سکتا۔\n\nماہرین کے مطابق اس اقدام کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ عدالتی نظام کی خودمختاری پر عالمی سطح پر پیدا ہونے والے تحفظات ہیں۔ حال ہی میں منظور ہونے والی 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی اور ان کے اختیارِ سماعت کے حوالے سے کئی سوالات نے جنم لیا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار کسی بھی ملک میں سرمایہ کاری کرنے سے قبل وہاں کی عدلیہ کی آزادی اور غیر جانب داری کو مدنظر رکھتے ہیں۔ خلیجی ممالک جیسے دبئی، ابوظہبی اور قطر نے اپنے تجارتی فورمز کے لیے عالمی سطح پر تسلیم شدہ ججوں کی خدمات حاصل کرکے سرمایہ کاروں کا اعتماد جیتا، جبکہ پاکستان میں عدالتی نظام کو انتظامی کنٹرول کے تحت لانے سے اعتماد کا فقدان بڑھا ہے۔\n\nدوسرا بڑا مسئلہ پاکستان کا قدیم اور متروک 'آربیٹریشن ایکٹ 1940' ہے، جو قیامِ پاکستان سے بھی پہلے کا نوآبادیاتی قانون ہے۔ اس قانون کے تحت ثالثی کا فیصلہ تب تک حتمی نہیں ہوتا جب تک عدالت اسے قانونی حیثیت نہ دے دے، جس کی وجہ سے معاملہ طویل قانونی جنگ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اپریل 2023 میں آربیٹریشن لاء ریویو کمیٹی نے 'آربیٹریشن ایکٹ 2024' کا جامع مسودہ تیار کرکے وزارت قانون کو پیش کیا تھا جو یو این سی آئی ٹی آر اے ایل ماڈل لاء پر مبنی تھا، مگر دو سال گزرنے کے باوجود یہ مسودہ التوا کا شکار ہے۔ اس کے برعکس روانڈا اور نائجیریا جیسے ممالک نے اپنے ثالثی قوانین میں جدت لا کر بین الاقوامی درجہ بندی میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔\n\nاس کے علاوہ ماضی میں بنائے گئے فورمز جیسے 'ٹریڈ ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیشن' اور 'انٹرنیشنل میڈی ایشن اینڈ آربیٹریشن سینٹر' بھی مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہے ہیں کیونکہ ان کا انحصار بھی 1940 کے پرانے قانون اور انتظامی اثر و رسوخ پر تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نظام کی بہتری کے لیے درست ترجیحات کا تعین انتہائی ضروری ہے۔ سب سے پہلے عدلیہ کی حقیقی خودمختاری اور اعتماد کی بحالی ضروری ہے اور اس کے بعد جدید ثالثی قوانین کا نفاذ لازمی ہے۔ ان بنیادی اصلاحات کے بغیر نئی کمرشل کورٹ کا قیام محض ایک بے سود تجربہ ثابت ہوگا۔