LIVE
Loading Breaking News...

مسلم ممالک میں جمہوریت کا بحران اور بدلتے سیاسی رجحانات

News Image
مسلم دنیا میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط نہ ہونے کے اسباب اور ریاستی ڈھانچے میں اشرافیہ کا غلبہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ مختلف مسلم ممالک میں مروجہ سیاسی ماڈلز اور فوجی کردار جمہوریت کے تسلسل کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
دنیا بھر میں تقریباً 50 سے زائد مسلم اکثریتی ممالک موجود ہیں، جن میں سے نصف کے قریب ممالک کسی نہ کسی شکل میں جمہوریت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے صرف 7 سے 11 ممالک ہی فعال انتخابی جمہوریتوں کے معیار پر پورا اترتے ہیں۔ یہ صورتحال ایک پیچیدہ سوال پیدا کرتی ہے کہ آخر مسلم دنیا میں جمہوریت اپنی جڑیں کیوں مضبوط نہیں کر سکی؟ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسلم دنیا کے طاقتور طبقے یعنی اشرافیہ کے نزدیک جمہوریت آج بھی ایک غیر مانوس تصور ہے، اور اکثر ریاستیں ابھی تک نیشن اسٹیٹ کے تصور کو مکمل طور پر اپنانے میں ناکام رہی ہیں۔ مسلم دنیا کی ایک بڑی تعداد 'استثنائیت' کے نظریے پر کاربند ہے، جس کے تحت یہ موقف اختیار کیا جاتا ہے کہ مغربی طرز کی جمہوریت ان کے معاشروں کے لیے موزوں نہیں ہے۔ اس کے باوجود، اکثر ممالک معاشی ترقی اور سماجی استحکام کے حصول کے لیے خلیجی بادشاہتوں اور آمرانہ نظاموں کی طرف دیکھتے ہیں۔ عرب بہار کے دوران تیونس سے شروع ہونے والی جمہوری لہر بھی وقت کے ساتھ ساتھ کمزور پڑ گئی اور وہاں بھی صدارتی اختیارات میں اضافہ اور پارلیمانی کردار کو محدود کر دیا گیا۔ یہ عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح جمہوری عمل آہستہ آہستہ مرکزی اور شخصی حکومت کی طرف جھک جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی صورتحال اس سے مختلف نہیں ہے، جہاں ایک طبقہ خلیجی ماڈل سے متاثر نظر آتا ہے اور وہاں کی ترقی کو ایک کامیاب آمرانہ مثال سمجھتا ہے۔ تاہم، پاکستان کی وسیع آبادی، نسلی و لسانی تنوع اور وفاقی ڈھانچے کے پیش نظر خلیجی ماڈل کا اطلاق ممکن نہیں ہے۔ مصر، تھائی لینڈ اور میانمار کی مثالیں یہ بتاتی ہیں کہ جدید دور میں عسکری طاقتیں پارلیمنٹ اور انتخابات کو ختم کرنے کے بجائے آئینی ترامیم اور ادارہ جاتی انجینئرنگ کے ذریعے منتخب حکومتوں کے اختیارات کو محدود کر دیتی ہیں۔ میانمار کا 2008 کا آئین اس کی واضح مثال ہے جہاں فوج کو پارلیمنٹ میں مخصوص نشستیں اور ویٹو کا حق حاصل رہا۔ ان تمام تر تجربات سے یہ سبق ملتا ہے کہ ادارے سیاسی جماعتوں کو تو دبا سکتے ہیں لیکن ووٹرز کی خواہشات اور مطالبات کو دبانا ناممکن ہوتا ہے۔ ترکی کی مثال اس لیے منفرد ہے کیونکہ وہاں آمریت کا عمل کسی فوجی مداخلت کے بجائے ایک منتخب سویلین قیادت کے ذریعے آگے بڑھایا گیا۔ مسلم دنیا میں جمہوریت کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ آیا حکمران طبقے سیاسی حدود کا تعین کرتے وقت عوامی مینڈیٹ اور جمہوری اصولوں کو مقدم رکھتے ہیں یا آئینی تبدیلیوں کے ذریعے اقتدار کو مستحکم کرنے کی کوشش جاری رکھتے ہیں۔