LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں سیاسی مذاکرات اور حکومت کی مفاہمت کی کوششیں

News Image
وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے اپوزیشن کو مذاکرات کی ایک اور دعوت دی گئی ہے، تاہم سیاسی تلخیوں کے باعث اس پیشکش کے کامیاب ہونے کے امکانات کم نظر آتے ہیں۔ موجودہ سیاسی صورتحال، پی ٹی آئی کے تحفظات اور حکومتی اتحادیوں کے بدلتے رویے ملکی سیاست میں کسی بڑی تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے رواں ہفتے ایک بار پھر اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی ہے، جس میں انہوں نے 'ٹیلی ڈانس' (it takes two to tango) کے محاورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی اور جمہوریت کی مضبوطی کے لیے تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ یہ پیشکش وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کے سینیٹ میں دیے گئے بیان کی بازگشت معلوم ہوتی ہے، جس میں انہوں نے اپوزیشن کو سنجیدگی اختیار کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ تاہم، سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ماضی کی تلخ یادوں اور موجودہ سیاسی کشیدگی کے تناظر میں ان مذاکرات کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں۔ حکومتی سطح پر رانا ثناء اللہ، اعظم نذیر تارڑ اور طارق فضل چوہدری کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقاتیں ضرور ہوئی ہیں، لیکن عملی طور پر کسی ٹھوس پیش رفت کا فقدان ہے۔ حکومتی اقدامات نے خود ہی مذاکرات کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔ خاص طور پر سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود سابق وزیر اعظم عمران خان کے طبی معائنے کے معاملے کو جس طرح ہینڈل کیا گیا، اس نے پی ٹی آئی کے کارکنوں اور قیادت میں حکومت کے خلاف نفرت کو مزید بڑھایا ہے۔ اس صورتحال نے پی ٹی آئی کے ان عناصر کو مضبوط کیا ہے جو حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کے سمجھوتے کے بجائے محاذ آرائی کو ترجیح دیتے ہیں۔ دوسری جانب حکومتی اتحاد کی اہم اتحادی جماعت پیپلز پارٹی بھی اپنے سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے اپوزیشن کے ساتھ رابطے میں ہے، جبکہ جے یو آئی (ف) بھی اپوزیشن اتحاد کے ساتھ مل کر حکومتی حکمت عملی کو چیلنج کرنے کے اشارے دے رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی اپنی صفوں میں بھی ہم آہنگی کا فقدان نمایاں ہے۔ جہاں ایک طرف وفاقی سطح پر مفاہمت کی باتیں ہو رہی ہیں، وہیں پنجاب کی وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی پر تنقید کے تازہ نشتر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پارٹی کے اندرونی حلقوں میں بیانیے کا تضاد موجود ہے۔ سینئر قیادت جہاں مفاہمت کی حامی نظر آتی ہے، وہیں دوسری لائن کی قیادت محاذ آرائی پر بضد ہے۔ سیاسی طور پر یہ واضح ہے کہ جب تک تمام اسٹیک ہولڈرز ذاتی انا اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر بیٹھنے پر تیار نہیں ہوں گے، قومی ڈائیلاگ کی کوئی بھی کوشش بے سود رہے گی۔ جمہوریت کا حسن باہمی احترام اور مختلف آراء کا احترام ہے، جس کی پاکستان کی موجودہ سیاست کو اشد ضرورت ہے۔