World
امریکی تعلیمی نظام اور تنقیدی سوچ کی کمی پر پیٹر ہچنز کا اظہار تشویش
جدید امریکی معاشرے میں تنقیدی صلاحیتوں کی کمی اور عام شہریوں کو آزادانہ سوچنے کے بجائے مخصوص نظریات اپنانے کی تربیت دینے پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق عوام کو منظم انداز میں بنیادی فکر سے محروم کرنا ان کی جابرانہ اور غاصبانہ اقدامات کو سائنسی انداز میں قبول کرنے کی اہم وجہ ہے۔
جدید مغرب اور بالخصوص امریکی معاشرے میں گہرے ہوتے سیاسی و سماجی بحران پر گفتگو کرتے ہوئے معروف تجزیہ کاروں اور مفکرین نے تنقیدی سوچ کی تباہی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ معروف صحافی اور مصنف پیٹر ہچنز کا ایک مشہور قول اس صورتحال کی مکمل عکاسی کرتا ہے جس میں وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا ایسے معاشرے میں عوامی مباحثے کا کوئی فائدہ ہے جہاں لوگوں کو سوچنے کا طریقہ سکھانے کے بجائے یہ سکھایا گیا ہو کہ انہیں کیا سوچنا ہے۔ اس صورتحال نے عوام میں آزادانہ سوال اٹھانے اور حکمرانوں سے جوابدہی طلب کرنے کی صلاحیت کو بالکل فلج کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشرے میں بے حسی اور جابرانہ فیصلوں کی مسلسل قبولیت کا براہ راست تعلق تعلیمی اور سماجی نظام میں تنقیدی فکر کے سوچے سمجھے خاتمے سے ہے۔ ماضی کے برعکس، جہاں سکولوں اور یونیورسٹیوں میں طلبہ کو دلیل دینے، حقائق کا معروضی جائزہ لینے اور سوال اٹھانے کی ترغیب دی جاتی تھی، اب نصاب اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے ان کے ذہنوں کو ایک مخصوص سیاسی و سماجی سانچے میں ڈھالا جا رہا ہے۔ اس منظم عمل کے نتیجے میں کروڑوں افراد خود سے حقیقت کی تلاش کرنے اور آزادانہ رائے قائم کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکے ہیں۔ اس فکری زوال نے عام شہریوں کو حکومتی اقدامات اور جابرانہ پالیسیوں کے سامنے مکمل طور پر بے بس اور غیر فعال بنا دیا ہے۔ جب شہریوں میں سوال پوچھنے یا اقتدار کی غلط پالیسیوں پر اعتراض کرنے کا رجحان ختم ہو جاتا ہے، تو جابرانہ اور غیر جمہوریت پسند طاقتوں کے لیے اپنے غیر انسانی احکامات مسلط کرنا انتہائی آسان ہو جاتا ہے۔ آج کا عام شہری ذرائع ابلاغ سے نکلنے والے اطلاعات کے سیلاب میں تو گھرا ہوا ہے، لیکن اس کے پاس سچ اور جھوٹ کے درمیان تمیز کرنے کا کوئی عقلی معیار باقی نہیں بچا۔ اس بحران کے نتائج اب عالمی اور سماجی سطح پر واضح طور پر نظر آ رہے ہیں جہاں عوامی سطح پر تعمیری گفتگو کا خاتمہ ہو چکا ہے اور معاشرتی تقسیم عروج پر پہنچ چکی ہے۔ فکری دانشوروں کا ماننا ہے کہ اگر معاشرے کو اس اخلاقی اور فکری گراوٹ سے بچانا ہے تو تعلیمی نظام میں تنقیدی سوچ کی بحالی، آزادانہ مباحثے اور اقتدار سے سوال کرنے کی ثقافت کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا، ورنہ جابرانہ تسلط مزید مضبوط ہوتا جائے گا اور عوامی آزادی مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔