LIVE
Loading Breaking News...

دی فینٹم ایمپائر: ایک صدی پرانی سائنس فکشن ویسٹرن فلم جو آج بھی مستقبل کی عکاسی کرتی ہے

News Image
1935 میں ریلیز ہونے والی سائنس فکشن اور ویسٹرن فلمی سیریل 'دی فینٹم ایمپائر' کو کیمرے کی دنیا میں ایک انوکھا تجربہ قرار دیا جا رہا ہے۔ تقریباً سو سال گزرنے کے باوجود یہ کلاسک فلمی شاہکار آج بھی شائقین کو ایک جدید اور مستقبل سے جڑی کہانی کا احساس دلاتا ہے۔
سینما کی تاریخ میں بعض ایسی فلمیں اور سیریلز موجود ہیں جو اپنے وقت سے بہت آگے کی سوچ رکھتی ہیں۔ 1935 میں ریلیز ہونے والی 12 قسطوں پر مشتمل سیریل 'دی فینٹم ایمپائر' (The Phantom Empire) انہی نایاب شاہکاروں میں سے ایک ہے۔ اس فلمی سیریل نے کاؤ بوائے ویسٹرن اور جدید سائنس فکشن کا ایک ایسا انوکھا امتزاج پیش کیا جس نے اس وقت کے شائقین کو حیرت زدہ کر دیا تھا، اور تقریباً ایک صدی گزرنے کے بعد بھی اس کا جادو ویسا ہی قائم ہے۔ اس فلم کی کہانی ایک ریڈیو سنگنگ کاؤ بوائے کی زندگی کے گرد گھومتی ہے جو زمین کی سطح سے ہزاروں فٹ نیچے موجود ایک انتہائی جدید اور سائنسی دنیا 'مورینیا' کو دریافت کرتا ہے۔ مورینیا کی زیرِ زمین دنیا میں جدید ٹیکنالوجی، روبوٹس، لیزر شعاعیں اور سائنسی آلات دکھائے گئے تھے، جو 1930 کی دہائی میں فلم بینوں کے لیے بالکل نیا تصور تھے۔ اس دور میں اس طرح کی خیالی سائنس اور روایتی مغربی چرواہوں کے کلچر کو ایک ساتھ جوڑنا سینما کی صنعت کا ایک دلیرانہ اور تخلیقی تجربہ تھا۔ نامور فلمی پلیٹ فارم 'انڈی وائر' کے مطابق، اسٹریمنگ کے موجودہ دور میں بھی اس کلاسیک سیریل کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ پرانی فلمی تاریخ کی بحالی کے سلسلے میں اس فلم کا تذکرہ کرتے ہوئے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ سیریل آج کے جدید سائنس فکشن سنیما کے لیے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس نے آنے والے دور کی سائنسی فلموں اور خلائی مہم جوئی کی کہانیوں کے لیے راستے ہموار کیے تھے۔ 'دی فینٹم ایمپائر' صرف ایک فلم نہیں بلکہ سنیما کی تاریخ کا وہ نایاب موڑ ہے جہاں پرانی دنیا کی روایات اور مستقبل کی ٹیکنالوجی ایک جگہ جمع ہو گئی تھیں۔ آج جب ہم اس صدی پرانی فلم کو دیکھتے ہیں تو اس کے محدود وسائل کے باوجود کی گئی عکاسی شائقینِ سینما کو حیران کر دیتی ہے اور یہ ثابت کرتی ہے کہ تخلیقی سوچ کسی خاص دور یا جدید ٹیکنالوجی کی محتاج نہیں ہوتی۔