LIVE
Loading Breaking News...

فٹنس اور صحت: کیا موٹا مگر فٹ شخص دبلے اور غیر فٹ سے بہتر ہے؟

News Image
معروف فٹنس پوڈکاسٹ مائنڈ پمپ کی حالیہ قسط میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ جسمانی طور پر فعال اور مضبوط ہونا محض دبلے پتلے ہونے سے کہیں زیادہ فائدہ مند ہے۔ ماہرین کے مطابق صرف وزن کم کرنے کے بجائے جسمانی طاقت اور نظام تنفس کی بہتری پر توجہ دینا زیادہ اہم ہے۔
صحت اور فٹنس کی دنیا میں طویل عرصے سے یہ بحث جاری ہے کہ آیا جسمانی وزن صحت کی اصل علامت ہے یا نہیں؟ مشہور بین الاقوامی فٹنس پوڈکاسٹ مائنڈ پمپ کی 2928ویں قسط میں اس موضوع پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے ماہرین سیل ڈی سٹیفانو، ایڈم شیفر اور جسٹن اینڈریو نے ایک اہم حقیقت پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ سائنسی اور طبی بنیادوں پر اگر کوئی شخص وزنی یا موٹا ہے لیکن وہ جسمانی طور پر فعال اور فٹ ہے، تو اس کی صحت اس شخص سے کہیں بہتر ہے جو بظاہر دبلا پتلا دکھائی دیتا ہے لیکن اندرونی طور پر غیر فعال اور غیر فٹ ہے۔ پوڈکاسٹ میں ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ صرف ترازو پر نظر آنے والے وزن کو صحت کا معیار بنانا ایک سنگین غلط فہمی ہے۔ اکثر لوگ وزن کم کرنے کی دھن میں سخت پرہیز اور غلط طریقوں کے ذریعے اپنے جسمانی مسلز کو ضائع کر دیتے ہیں، جس سے وہ دبلے تو ہو جاتے ہیں لیکن ان کی میٹابولک صحت، دل کی کارکردگی اور طاقت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ طبی تحقیقات کے مطابق باقاعدگی سے ورزش کرنے والے وزنی افراد کا نظام تنفس، دوران خون اور قوت مدافعت ان دبلے افراد کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہوتی ہے جو سست طرز زندگی گزارتے ہیں۔ فٹنس ماہرین کا مزید کہنا تھا کہ جسم میں مسلز کی مقدار اور دل و پھیپھڑوں کی مضبوطی انسان کی عمر اور زندگی کے معیار کا تعین کرتی ہے۔ صرف چربی کم کرنے اور سمارٹ دکھنے کے لیے غیر صحتمندانہ طریقے اپنانے کے بجائے افراد کو طاقت کی تربیت اور فعال طرز زندگی پر توجہ دینی چاہیے۔ اگر کوئی شخص باقاعدگی سے وزنی ورزشیں کرتا ہے اور متوازن غذا لیتا ہے تو اس کا چند کلو اضافی وزن اس کی صحت کے لیے خطرہ بننے کے بجائے اس کی پائیداری کا سبب بن سکتا ہے۔ اس تفصیلی گفتگو کا بنیادی مقصد عوام میں فٹنس کے حوالے سے پائے جانے والے روایتی مفروضوں کو ختم کرنا ہے۔ ماہرین نے مشورہ دیا کہ لوگوں کو وزن کے ہندسوں سے خوفزدہ ہونے کے بجائے روزمرہ کی جسمانی سرگرمیوں، طاقت اور برداشت کو بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر آپ کا جسمانی وزن کچھ زیادہ بھی ہے لیکن آپ روزانہ ورزش کرتے ہیں اور اپنے جسم کو فعال رکھتے ہیں، تو آپ ایک غیر فعال دبلے شخص کے مقابلے میں زیادہ طویل اور صحتمند زندگی گزار سکتے ہیں۔