LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور بریسٹ کینسر کی تشخیص ڈاکٹر گیتا منجوناتھ کی کہانی

News Image
ڈاکٹر گیتا منجوناتھ نے اپنے دو کزنز کی چھاتی کے کینسر سے قبل از وقت موت کے بعد اے آئی پر مبنی ابتدائی تشخیص کا طریقہ ایجاد کیا ہے۔ ان کی اس جدید ٹیکنالوجی سے نہ صرف کینسر کی بروقت تشخیص ممکن ہو گی بلکہ یہ عام لوگوں کے لیے بھی انتہائی قابل رسائی ہے۔
چھاتی کا کینسر دنیا بھر میں خواتین کی اموات کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے، اور اس بیماری میں بروقت تشخیص زندگی اور موت کا فرق ثابت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر گیتا منجوناتھ کو اپنی زندگی میں ایک شدید ذاتی صدمے کا سامنا کرنا پڑا جب ان کے خاندان میں دو کزنز چھاتی کے کینسر کی بیماری میں مبتلا ہوئیں لیکن مرض کی تشخیص اتنی تاخیر سے ہوئی کہ ان کی جان نہ بچ سکی۔ اس دردناک اور ناگہانی نقصان نے ڈاکٹر گیتا کو گہرائی سے متاثر کیا اور انہوں نے عہد کیا کہ وہ اس مسئلے کا کوئی ایسا پائیدار اور قابل عمل حل تلاش کریں گی جو دنیا بھر میں ہزاروں خواتین کی زندگی بچا سکے۔ کمپیوٹنگ، سپر کمپیوٹنگ اور ڈیٹا اینالیٹکس کے شعبوں میں دہائیوں کا تجربہ رکھنے والی ڈاکٹر گیتا منجوناتھ نے، جو کہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس (IISc) کی گولڈ میڈلسٹ بھی ہیں، اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کا رخ کیا۔ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اس بات پر تحقیق کی کہ کس طرح اے آئی کی مدد سے بریسٹ کینسر کی تشخیص کو نہ صرف تیز بلکہ عام خواتین کے لیے بھی انتہائی آسان بنایا جا سکتا ہے، تاکہ روایتی اور تکلیف دہ طریقہ کار سے ہٹ کر ابتدائی مرحلے میں ہی بیماری کا پتہ چلایا جا سکے۔ اپنے اس عزم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ڈاکٹر گیتا نے 'نرامی' (NIRAMAI) نامی ادارے کی بنیاد رکھی اور اپنی ٹیم کے ہمراہ ایک جدید ترین اے آئی بیسڈ ٹیکنالوجی تیار کی۔ یہ ٹیکنالوجی بغیر کسی تابکاری یا تکلیف دہ جسمانی معائنے کے کینسر کے خلیات کی ابتدائی علامات کو شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کی جدتیں صحت کے شعبے میں انقلاب برپا کر سکتی ہیں، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں جہاں جدید ترین طبی سہولیات ہر ایک کی پہنچ میں نہیں ہوتیں۔ ڈاکٹر گیتا منجوناتھ کی یہ کاوش اس بات کی روشن مثال ہے کہ کس طرح ذاتی صدمات اور مشکلات کو ایک بڑے سماجی اور طبی مقصد کے حصول میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ ان کی یہ ایجاد آج نہ صرف دنیا بھر کی خواتین کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن چکی ہے بلکہ یہ اس امر کا ثبوت بھی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا درست استعمال انسانیت کی فلاح و بہبود اور قیمتی جانیں بچانے میں کتنا اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔