LIVE
Loading Breaking News...

ایران اور امریکہ کشیدگی: ہمسایہ ممالک کو اہم انتباہ

News Image
ایران کے نئے سکیورٹی چیف نے واضح کیا ہے کہ جو بھی ہمسایہ ملک امریکہ کی اقتصادی جنگ میں شامل ہوگا اسے تہران کا دشمن قرار دیا جائے گا۔ دوسری جانب امریکی دھمکیوں اور نئی پابندیوں کے اعلان کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
تہران: ایران کے نئے سکیورٹی چیف کی جانب سے ایک انتہائی سخت اور واضح بیان سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایسے تمام ہمسایہ ممالک جو امریکہ کی اقتصادی جنگ کا حصہ بنیں گے، انہیں ایران کا دشمن تصور کیا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوںممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور خطے میں سیاسی و معاشی عدم استحکام کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ تہران کی جانب سے یہ واضح پیغام خطے کے ان تمام ممالک کے لیے ہے جو امریکی دباؤ میں آ کر تہران کے خلاف معاشی پابندیوں یا اقدامات کا حصہ بن سکتے ہیں۔ ادھر واشنگٹن کی طرف سے بھی تہران پر دباؤ مزید بڑھانے کی تیاریاں جاری ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں دھمکی دی ہے کہ ایران کی مدد کرنے والے کسی بھی ملک کو شدید معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ کی جانب سے تہران کے خلاف نئی اور سخت ترین پابندیوں کے اعلان کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے، جسے ایرانی حکام نے شدید الفاظ میں مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی عسکری قیادت کا عزم ہے کہ وہ کسی بھی امریکی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے اور ملکی خودمختاری کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا۔ اس کشیدہ صورتحال کے بین الاقوامی معیشت اور خاص طور پر توانائی کی مارکیٹس پر بھی گہرے اثرات پڑ رہے ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے ہفتے اضافہ دیکھا گیا ہے کیونکہ سرمایہ کار مشرق وسطیٰ میں کسی ممکنہ بڑے تنازع اور سپلائی کے خدشات کے پیش نظر محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان یہ معاشی اور سیاسی محاذ آرائی مزید شدت اختیار کرتی ہے تو اس سے نہ صرف خطے کا امن بلکہ عالمی معیشت بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ تہران اپنے تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے لیکن اپنی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی معاشی جارحیت کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ اس تمام صورتحال نے خطے کے دیگر ممالک کو بھی ایک مشکل سفارتی چوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں انہیں ایک طرف امریکی دباؤ اور دوسری طرف ایران کے سخت انتباہ کا سامنا ہے۔