World
ایران کا معاشی جنگ کے خلاف سخت ردعمل اور جوابی حکمت عملی
تہران نے امریکہ کی جانب سے عائد کردہ اقتصادی پابندیوں کو ایک نئی معاشی جنگ قرار دیتے ہوئے اسے ناکام بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ملکی وسائل اور حکمت عملی سے بیرونی دباؤ کا مقابلہ کریں گے۔
مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں تہران نے امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی سخت معاشی پابندیوں کو ایک باقاعدہ 'معاشی جنگ' کا نام دیا ہے۔ ایرانی قیادت کا ماننا ہے کہ واشنگٹن ان کے ملک کو داخلی طور پر کمزور کرنے کے لیے معاشی ذرائع کا استعمال کر رہا ہے، جس کا مقصد تہران کی خارجہ پالیسی کو تبدیل کرنا اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔ تہران کی جانب سے جاری کردہ حالیہ بیانات میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ ایران کسی بھی صورت میں اس معاشی جارحیت کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے گا اور ہر ممکن طریقے سے اسے بے اثر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ایرانی حکام کے مطابق، وہ اپنی ملکی معیشت کے متبادل راستے تلاش کرنے اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ایران نے اپنی داخلی پیداوار کو بڑھانے اور غیر ملکی کرنسی پر انحصار کم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ ایرانی صدر اور دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ معاشی جنگ کا مقصد عوام میں مایوسی پھیلانا ہے، تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ ایرانی قوم اپنی لچکدار معاشی حکمت عملی کے ذریعے اس بحران سے سرخرو نکلے گی۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایران اب اپنی معاشی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں لا رہا ہے تاکہ بیرونی دباؤ کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ تہران کی طرف سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے جارحانہ اقدامات جاری رہے تو ایران اپنی دفاعی اور سفارتی پالیسیوں میں بھی سخت موقف اختیار کر سکتا ہے۔ عالمی برادری تہران کے اس تازہ بیان کو امریکہ کے ساتھ جاری تناؤ کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھ رہی ہے، کیونکہ خطے میں کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا اشتعال انگیزی کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ ایران اس وقت اپنے تجارتی نیٹ ورکس کو وسعت دینے اور پابندیوں کے باوجود عالمی منڈی تک رسائی یقینی بنانے کی حکمت عملی پر گامزن ہے تاکہ اپنی معیشت کو مستحکم رکھ سکے۔