LIVE
Loading Breaking News...

ایران کو چینی فضائی دفاعی نظام کی فراہمی، رپورٹس سامنے آ گئیں

News Image
مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق تہران کو آئندہ چند ہفتوں میں چین سے سینکڑوں کی تعداد میں کندھے پر اٹھائے جانے والے فضائی دفاعی نظام مل سکتے ہیں۔ دوسری جانب چین نے تہران کو میزائلوں کی فراہمی سے متعلق ان رپورٹس کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران حکومت کو آئندہ چند ہفتوں کے اندر چین سے کندھے پر اٹھائے جانے والے چار سو تک جدید فضائی دفاعی نظام موصول ہونے کا امکان ہے۔ اس پیشرفت کو خطے میں عسکری توازن کے حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل قرار دیا جا رہا ہے، جس پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دفاعی سازوسامان انتہائی کم فاصلے پر فضائی خطرات سے نمٹنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جو کسی بھی ملک کی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس تمام صورتحال کے بعد خطے میں تناؤ میں اضافے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کیونکہ اس قسم کے ہتھیاروں کی نقل و حرکت پر عالمی طاقتوں کی خصوصی توجہ ہوتی ہے۔ دوسری جانب، چینی حکام نے تہران کو کسی بھی قسم کے میزائل یا دفاعی نظام کی منتقلی سے متعلق ان خبروں کو سختی سے رد کیا ہے۔ بیجنگ کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں ان رپورٹس کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس قسم کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علاقائی ممالک کے ملوث ہونے کے حوالے سے بھی میڈیا میں مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، جن کی تردید یا تصدیق متعلقہ دفاتر کی طرف سے کی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کی عسکری اطلاعات خطے کی سیاست اور سفارتی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید سفارتی ردعمل سامنے آنے کی توقع ہے، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے بھی اس خبر کے اثرات کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ خطے کے امن کو برقرار رکھا جا سکے۔