LIVE
Loading Breaking News...

خام تیل کی قیمتیں: عالمی مارکیٹ میں تیزی کا رجحان

News Image
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تجارتی ماہرین کے مطابق سپلائی میں خلل کے خدشات کی وجہ سے تیل کے نرخوں میں مسلسل دوسرے ہفتے تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کے مستقبل کے سودوں (Futures) میں تیزی کا رجحان برقرار ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور اس کے نتیجے میں تیل کی عالمی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ڈبلیو ٹی آئی (WTI) خام تیل کے اکتوبر کے معاہدے میں 0.23 ڈالر یا 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 87.06 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا جو 0.81 ڈالر یعنی 0.9 فیصد اضافے کے بعد 94.59 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ یہ مسلسل دوسرا ہفتہ ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ سیاسی صورتحال نے سرمایہ کاروں میں تشویش پیدا کر دی ہے، خاص طور پر ایران کے حوالے سے سخت بیانات اور ممکنہ جغرافیائی سیاسی بحران نے توانائی کی منڈیوں کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سے متعلق حالیہ ریمارکس کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں فوری طور پر 2 فیصد تک کا اضافہ دیکھا گیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ کسی بھی قسم کی سپلائی میں خلل کے لیے انتہائی حساس ہے۔ توانائی کے شعبے کے ماہرین کا خیال ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے یا ایران کی طرف سے تیل کی برآمدات پر اثرات مرتب ہوتے ہیں، تو قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔ برینٹ آئل کی قیمتوں میں حالیہ پیش رفت نے طویل المدتی سرمایہ کاروں کو خبردار کر دیا ہے کہ توانائی کے بحران کا خدشہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔ فی الحال مارکیٹ کا تمام تر دھیان خطے کی سیاسی صورتحال اور عالمی طاقتوں کے ردعمل پر مرکوز ہے، کیونکہ کسی بھی قسم کی جنگی صورتحال یا پابندیوں کا براہِ راست اثر پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین پر پڑے گا۔ مستقبل کے حوالے سے تجارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جاری رہے گا، لیکن سپلائی کی کمی کے خدشات قیمتوں کو ایک نئی بلندی پر برقرار رکھنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ عالمی معیشت کے لیے توانائی کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایک چیلنج ہے، جس سے افراطِ زر کے دباؤ میں مزید اضافے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔ آنے والے دنوں میں مارکیٹ کا رجحان مکمل طور پر سیاسی پیش رفت سے جڑا رہے گا۔