World
کولمبیا کے سابق صدر گستاو پیٹرو کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی پر سخت ردعمل
کولمبیا کے سابق صدر گستاو پیٹرو نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کو غزہ میں جاری نسل کشی کی حمایت قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے اخلاقی طور پر غلط اقدام قرار دیا ہے۔
کولمبیا کے سابق صدر گستاو پیٹرو نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کے حالیہ حکومتی اقدام پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ پیٹرو کا ماننا ہے کہ ایسے وقت میں جب غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ شہری اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا اخلاقی طور پر ایک غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں واضح طور پر کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنا درحقیقت غزہ میں جاری نسل کشی کی تائید کرنے کے مترادف ہے، جسے عالمی برادری کو کسی صورت نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
اپنے دور صدارت میں بھی گستاو پیٹرو فلسطین کے حقوق کے زبردست حامی رہے ہیں اور انہوں نے متعدد بار اسرائیل کی فوجی حکمت عملی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی ریاست کے ساتھ سفارتی تعاون بڑھانا انسانی حقوق کی ان اقدار کے منافی ہے جن کے لیے کولمبیا کی عوام اور ان کی سیاسی تحریک کھڑی رہی ہے۔ پیٹرو کے نزدیک یہ فیصلہ نہ صرف اخلاقی تنزلی ہے بلکہ یہ مظلوم فلسطینی عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف بھی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دنیا بھر کے ممالک کو اسرائیل پر دباؤ ڈالنا چاہیے تاکہ غزہ میں جاری خونریزی کو فوری طور پر بند کرایا جا سکے۔
سابق صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لاطینی امریکہ کے مختلف ممالک میں اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف عوامی غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ گستاو پیٹرو کا یہ سخت بیانیہ بین الاقوامی سطح پر اس بحث کو دوبارہ تازہ کر رہا ہے کہ کیا انسانی جانوں کے تحفظ کو سیاسی و سفارتی مفادات پر فوقیت حاصل ہونی چاہیے۔ ان کے ناقدین اور حامیوں کے درمیان یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ آیا ایک ملک کی خارجہ پالیسی کو صرف مفادات کے تابع ہونا چاہیے یا اسے انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کے دائرے میں رہ کر تشکیل دیا جانا چاہیے۔
آخر میں، گستاو پیٹرو نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ کی صورتحال پر خاموشی توڑے۔ ان کے بقول، تاریخ ایسے فیصلوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی جو نسل کشی جیسے انسانی بحرانوں کے دوران مجرمانہ خاموشی اختیار کرتے ہیں یا جارح طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں۔ پیٹرو کا یہ مؤقف ان کے ان نظریات کی عکاسی کرتا ہے جو وہ اپنی سیاسی زندگی میں ہمیشہ مظلوموں کی حمایت میں پیش کرتے رہے ہیں۔